پہلےؔ ہی سے دہریوں اور بے قید لوگوں کی نظر میں زیر مواخذہ ہیں تو کیا وید کا قصہ گوئی سے یہ مطلب ہے کہ اُسی زندان میں اپنے تئیں بھی ڈال دے جس میں دوسرے قصہ گو بھی پڑے ہوئے ہیں۔
اے ہموطن پیارو! یہ بُرا ماننے کی بات نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اسی نقصان سے جو وید میں پایاجاتا ہے۔ آریہ ورت کے لاکھوں ہندوجو جَین مَت وغیرہ ناموں سے اپنے تئیں منسوب کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر ہوگئے کیونکہ انہوں نے خدا کے وجود اور اس کی صفات کی نسبت وید کی تعلیم سے کوئی تسلی نہیں پائی۔ بعض پنڈتوں سے ہم نے خود سنا ہے کہ ہم نے چاروں وید پڑھے مگر ہمیں اب تک یقینی طور پر معلوم نہیں ہوا کہ کہیں وید میں خدا کا ذکر بھی ہے۔ بعض نے اِس دعویٰ کی ذمہ واری اِس قدر اپنے ذمہ قبول کرلی ہے کہ اگر وید میں کوئی خدا کا ذکر ثابت کرکے دکھلاوے تو ہم اُس کو اپنی لڑکی دینے کو تیار ہیں اور یہ عذر پیش کرنا فضول ہے کہ وید ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے لہٰذا اُس وقت وید نے یہ غیر ضروری سمجھا کہ خدا کی ہستی اور اس کی صفات کا ملہ کا تازہ طور پر ثبوت دے۔ اور اُس کے علم غیب اور دوسری صفات کے تازہ نمونہ دکھلاوے کیونکہ بلاشبہ جیسا کہ انسان اِس زمانہ میں اس بات کامحتاج ہے کہ خدا کی صفات کے تازہ نمونے دیکھے اُس وقت بھی محتاج تھا کیونکہ انسان محض تاریکی میں پیدا ہوتا ہے اور پھر خدا کی کلام کے ذریعہ سے اُس کو روشنی ملتی ہے۔ اور پھر اس دعوے کا ثبوت کہاں ہے کہ وید ابتدائی زمانہ کی کتاب ہے بلکہ خود وید سے پتہ ملتا ہے کہ مختلف زمانوں میں اس کامجموعہ تیار ہوا ہے اوروہ درحقیقت بہت سے رشیوں کے اقوال ہیں نہ صرف چار کے۔چنانچہ سکتوں کے عنوان پر جابجا یہ اشارہ پایاجاتا ہے۔ ماسوا اس کے پارسیوں کو اپنی کتاب کی قدامت کی نسبت آریوں سے بڑھ کر دعوےٰ ہے۔ پس ان غیر مثبت دعووں کو پیش کرنا جائے شرم ہے۔ اوّل آریوں کو یہ چاہیئے کہ کسی عدالت میں پارسیوں پر نالش کرکے ویدوں کی قدامت کی نسبت اپنے حق میں ڈگری کرالیں