بتلا دیا اور پھر ایسا اتفاق ہوا کہ لالہ شرمپت اور اس کے دوسرے بھائیوں نے اپنے قیدی بھائی کی طرف سے چیف کورٹ میں اپیل کیا اور پھر لالہ شرمپت نے مجھے کہا کہ آپ اپنے خدا سے دریافت کریں کہ اس اپیل کا انجام کیا ہوگا۔ تب میں نے محض ہمدردی کے لحاظ سے پھر دعا کی کہ تا خدا تعالیٰ میرے پر انجام کھول دے۔ تب عالم کشف میں میرے پر ظاہر کیا گیا کہ انجام یہ ہوگا کہ چیف کورٹ سے وہ مثل ضلع میں واپس آئے گی اور لالہ بسمبر داس لالہ شرمپت کے بھائی کی نصف قید تخفیف کی جائے گی مگر وہ بَری نہیں ہوگا لیکن اُس کا دوسرا رفیق خوشحال نام پوری قید بھگتے گا اور ایک دن بھی اُس کا تخفیف نہیں ہوگا اوروہ بھی بری نہیں ہوگا۔ میں نے یہ سب حالات انجام اپیل سے پہلے لالہ شرمپت کو سنا دیئے اورآخر کار ایسا ہی
ظہور میں آیا ایک ذرّہ کا بھی فرق نہ پڑا۔ تب لالہ شرمپت نے میری طرف ایک رقعہ لکھاکہ آپ کی نیک بختی کی وجہ سے خدا نے یہ سب باتیں آپ پر کھول دیں یہ خدا کافضل ہے کہ لالہ شرمپت اب تک قادیان میں زندہ موجود ہے اور قسم دینے سے تمام حالات سچ سچ بیان کرنے کے لئے مجبور ہوگا۔ اورمیں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں بھی جس کو شائع کئے پچیس۲۵ برس گذر گئے ہیں یہ تمام قصہ شائع کردیا ہے اب ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر یہ قصہ خلاف واقعہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ لالہ شرمپت اس قدر مدّت تک خاموش رہتا اور ؔ اس قصہ کی تکذیب شائع نہ کرتا اور مجھے جھوٹا نہ ٹھہراتا۔ اور خود ظاہر ہے کہ ایسا کھلا کھلا جھوٹ بنانا ایک بڑے بدذات اور *** کاکا م ہے اور نیز سچ سے بھی وہی انکار کرے گا جس کو اپنے پرمیشر کاایک ذرہ بھی خوف نہیں اور نہ *** کا ڈر۔
اسی طرح ایک اور صاحب قادیان میں ہیں جن کا نام ملاوا مل ہے اور لالہ شرمپت اور لالہ ملاوا مل بڑے پُرجوش آریہ ہیں اور یہی قادیان کی سماج کے بانی بھی ہوئے تھے اور شاید عرصہ تیس۳۰ برس کا گذرا ہوگا کہ لالہ ملاوا مل مرض دِق میں مبتلا ہوگیا اور ایک نرم اور دائمی تپ ایسا اُس کے پیچھے پڑا کہ دن رات چڑھا رہتا تھا تب وہ اپنی زندگی سے مایو س ہوگیا اور