یہ نکتہ یاد رہے کہ بلاؤں کے ٹلنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ لوگ مسلمان ہو جائیں کیونکہ مذہبی غلطیوں کے مواخذہ کے لئے قیامت کا دن مقرر ہے ہاں یہ ضروری ہے کہ لوگ ہر ایک قسم کی بدچلنی سے باز آویں اور خدا کے پاک نبیوں کی نسبت بد زبانی سے پیش نہ آویں اور غریبوں پر ظلم نہ کریں اور صدقہ خیرات بہت کریں اورخدا کے ساتھ کسی کو برابر نہ کریں نہ پتھر کو نہ آگ کو نہ انسان کو نہ پانی کو نہ سورج کو نہ چاند کو اور تکبر اور شرارت کی راہوں کو چھوڑ دیں اور گورنمنٹ برطانیہ جس کے ماتحت وہ امن او رآسائش پارہے ہیں اس کی ایذا کے لئے بھی پوشیدہ منصوبے نہ سوچیں اور اطاعت کریں کیونکہ بلاشبہ اِس گورنمنٹ کا دونوں قوموں ہندوؤں اور مسلمانوں پر احسان ہے اور اس گورنمنٹ کے ایام سلطنت میں ایسی پُرامن راتیں ہیں کہ سکھوں کے زمانہ میں ایسے دن بھی نہیں تھے سو اگر لوگ ایسا کریں کہ سب کینے اپنے دلوں میں سے نکال دیں اور خدا سے بہت ڈریں تو یہ ایک رُوحانی ٹیکہ ہے کہ جس میں بلاشبہ شفا ہے۔ خدانے کئی مرتبہ مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ 33 یعنی یہ وبا جو دُنیا پر نازل ہو رہی ہے خدا کبھی اس میں تغیر و تبدل نہ کرے گا جب تک کہ لوگ اپنے دلوں کی تغییر و تبدیل نہ کرلیں۔ اور خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا۔ انی احافظ کل من فی الدار۔ لو لا الا کرام لھلک المقام۔ انی مع الرسول اقوم والوم من یلوم وافطر واصوم۔ ولن ابرح الارض الی الوقت المعلوم۔ یعنی میں ان سب لوگوں کو جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہیں طاعون سے بچاؤں گا اور اگر میں تیری عزت کا پاس نہ کرتا تو کل قادیان کو ہلاک کردیتا کیونکہ انہوں نے ہمسایہ ہوکر پھر بھی بدی کی۔ اور میں اس رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گااورملامت کرنے والے کو ملامت کروں گا اور میں افطار بھی کروں گا اورؔ روزہ بھی رکھوں گا اور میرا عذاب اس ملک سے کبھی علیحدہ نہ ہوگا جب تک وہ وقت نہ آجائے جو میں نے مقدر کیا ہے۔ اور روزہ اور افطار سے یہ مراد ہے کہ کبھی طاعون سخت