رہے گی گویا خدا روزہ دار کی طرح لوگوں کی ہلاکت کے ساتھ روزہ کھولے گا اوربعض دفعہ ایک وقت تک طاعون کو دور کردے گا گویا وہ روزہ دار ہے۔ ایسا ہی ایک عظیم الشان خدا کا نشان یہ ہے کہ آج سے ستائیس برس پہلے یا کچھ زیادہ میری یہ حالت تھی کہ میں ایک احدٌ مّن الناس تھا اور ایسا گمنام تھا کہ صرف چند آدمی ہوں گے جو میرے صورت آشنا ہوں گے اور کسی عزت اور وجاہت کا میں مالک نہیں تھا اُن دنوں مَیں اسی شہر لاہور میں کئی دفعہ آیا مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اُس نے میری وجاہت کے لحاظ سے خود آکر میری ملاقات کی۔ غرض اُس زمانہ میں ایسا تھا کہ گویا کچھ بھی نہ تھا اس بات کے گواہ قادیان میں نہ صرف مسلمان ہیں بلکہ آریہ بھی ہیں۔ اُسی زمانہ میں خدا نے میرے آئندہ عروج اور شوکت اورجلال کی خبر دی جو دو سال بعد میری کتاب براہین احمدیہ میں چھپ کر شائع ہوگئی جس کو آج پچیس۲۵ برس گذر گئے اوروہ پیشگوئی یہ ہے اِنّی جاعلک للناس امامًا۔ یأْتون من کل فج عمیق۔ یأْتیک من کل فج عمیق۔ ینصرک رجال نوحی الیھم من السمآءِ۔ اذاجآء نصر اللّٰہ والفتح وانْتھٰی امر الزمانِ الینا الیس ھذا بالحق۔ ولا تُصَعِّرلخلق اللّٰہ ولا تسئم من الناس أَلْقَیْتُ علیک محبّۃ منّی ولتصنع علٰی عینی۔ ترجمہ۔ میں تجھے لوگوں کے لئے ایک امام بناؤں گا۔ یعنی وہ تیرے پیرو ہوں گے اور تواُن کا پیشوا ہوگا۔ وہ ہر ایک دور دراز راہ سے تیرے پاس آئیں گے اور انواع و اقسام کی نقد اور جنس تیرے لئے لائیں گے۔ میں ایک جماعت کے دلوں میں الہام کروں گا تا وہ مالی مدد کریں پس وہ تیری مدد کریں گے۔ جب خدا کی مدد اور فتح آئے گی اورؔ ایک دنیا ہماری طرف رجوع لے آئے گی تب یہ کہا جائے گا کہ کیا یہ حق نہ تھا جو آج پورا ہوا اور تجھے چاہئے کہ جب خدا کی مخلوق تیری طرف رجوع کرے تو تم نے اُن سے بدخلقی نہ کرنا اور نہ اُن کی کثرت کو دیکھ کر تھکنا۔ میں اپنی طرف سے دلوں میں تیری محبت ڈالوں گا تا تو میری آنکھوں کے سامنے پرورش پاوے اور اپنے