کیونکر ہوسکتا ہے کہ خدا کا قول انسان کے قول سے برابر ہو اور کوئی الٰہی طاقت اُسؔ میں موجود نہ ہو۔ اب اے صاحبو! میں یہ بیان کرتا ہوں کہ وہ امتیازی نشان کہ جو الہامی کتاب کی شناخت کے لئے عقل سلیم نے قرار دیا ہے وہ صرف خدا تعالیٰ کی مقدس کتاب قرآن شریف میں پایا جاتا ہے اور اس زمانہ میں وہ تمام خوبیاں جو خدا کی کتاب میں امتیازی نشان کے طور پر ہونی چاہئیں دوسری کتابوں میں قطعاً مفقود ہیں ممکن ہے کہ اُن میں وہ خوبیاں پہلے زمانہ میں ہوں گی مگر اب نہیں ہیں اور گو ہم ایک دلیل سے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں اُن کو الہامی کتابیں سمجھتے ہیں مگر وہ گو الہامی ہوں لیکن اپنی موجودہ حالت کے لحاظ سے بالکل بے سود ہیں اور اُس شاہی قلعہ کی طرح ہیں جو خالی اور ویران پڑا ہے اور دولت اور فوجی طاقت سب اس میں سے کوچ کر گئی ہے۔ اب میں قرآن شریف کی امتیازی خوبیاں جو انسانوں کی طاقت سے برتر ہیں ذیل میں بیان کرتا ہوں۔ اوّل یہ کہ اس میں ایک زبردست طاقت ہے جو اپنے پیروی کرنے والوں کو ظنی معرفت سے یقینی معرفت تک پہنچا دیتی ہے او روہ یہ کہ جب ایک انسان کامل طور پر اُس کی پیروی کرتا ہے تو خدائی طاقت کے نمونے معجزہ کے رنگ میں اُس کو دکھائے جاتے ہیں اور خدا اُس سے