نے جو کچھ آج کے دن تک معلوم کیا ہے یہاں تک کہ سائینس کے پوشیدہ اسرار اور خواص کو عملی رنگ میں لاکر دکھلا دیا ہے اور ایسی کلیں اور صنعتیں ایجاد کی ہیں جو حیرت میں ڈالتی ہیں اور جو کچھ ارسطو اور افلاطون اور سقراط وغیرہ نے اپنے طور پر باریک در باریک حقائق اور معارف لکھے ہیں اور نفس کی بحث کو اپنے خیال میں انتہا تک پہنچایا ہے کیا ہم ان وجوؔ ہ سے اُ ن لوگوں کو نبی یا رسول کا خطاب دے سکتے یا اُن کی کتابوں کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ وہ الہامی اورخدا کاکلام ہے؟ ہرگز نہیں۔ اور یہ بات بھی کوئی صحیح حجت نہیں کہ فلاں کتاب پرانی اور قدیم زمانہ سے ہے اس لئے وہ خدا کی کتاب ہے کیونکہ اوّل تو اس دعویٰ کو منجانب اللہ ہونے کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں ماسوا اس کے یہ دعویٰ کئی قوموں نے پیش کیا ہے جیسا کہ پارسی نبیوں کی کتابوں نے یہی دعویٰ پیش کیا ہے اور جس نے کتاب دساتیر کو دیکھا ہوگا اسے خوب معلوم ہوگا کہ پارسیوں کی کتاب قدامت کے دعوے میں وید سے آگے بڑھ گئی ہے۔ اُن کی مدّت قرار دادہ کے مقابل پر ہزارم حصہ تک بھی وید نہیں پہنچتا۔ پس کس جج کو یہ فرصت ہے کہ دونوں کتابوں کا مقابلہ کرکے یہ فیصلہ کرے کہ قدامت کے دعوے میں صادق کون اور کاذب کون ہے اور فرض کے طور پر اگر کسی کتاب کا قدیم ہونا قبول بھی کرلیں تو کیا اس سے ثابت ہوجائے گاکہ وہ خدا کا کلام ہے۔ یاد رکھو اورخوب یاد رکھو کہ اس مقدمہ میں آخرکار اُسی کتاب کے حق میں ڈگری ہوگی کہ جوانسانی کلام کے مقابل پر کھلے کھلے طور پر کوئی مابہ الامتیاز پیش کرتی ہو کیونکہ جبکہ خدا کا فعل کہ جو اس کے عملی تصرفات ہیں انسان کے فعل سے امتیاز کلی رکھتا ہے یہاں تک کہ ایک مکھی کی مانند بھی بنانا انسان کی قدرت سے باہر ہے تو پھر