اپنی کارگذاری صرف اس قدر پیش کرتی ہے جس قدر عقل سلیم پہلے سے پیش کرچکی ہے حالانکہ اس کتاب کا یہ فرض تھا کہ وہ انسانی کلام سے اپنا برتر اور ممیز ہونا ثابت کرتی تا وہ یقینی معرفت کا ذریعہ ہوسکتی۔
انسان الہامی کتاب کامحض اس لئے محتاج ہے کہ نظام عالم پر غور کرکے اور یہ دیکھ کر کہ بڑے بڑے اجرام کیسے باہمی تعلقات سے اس دنیا کی گاڑی کھینچ رہے ہیں کوئی ستارہ دوسرے سے روشنی حاصل کرتا ہے اور کوئی دوسرے کے گرد گھومتا ہے اور باوجود بے شمار مدتوں کے اُن میں کوئی خلل اور بگاڑ واقع نہیں ہوتا۔ انسانی عقل اسؔ بات کے ماننے کے لئے مجبور ہوجاتی ہے کہ در پردہ کوئی ایسی بڑی طاقت ہوگی جس کے ارادہ اور حکم سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے پھر بھی اُس عقل نے کچھ دیکھا تو نہیں لہٰذا اُس کا زیادہ سے زیادہ تو یہ حق ہے کہ ان تصرّفات پر غور کرکے یہ کہے کہ اُن کا کوئی صانع ہونا چاہیئے نہ یہ کہ درحقیقت وہ صانع موجود بھی ہے اور ہونا چاہیئے اور ہے میں وہ فرق ہے جو ظن اور یقین میں فرق ہوتا ہے اور الہامی کتاب کا یہ کام ہے کہ ہونا چاہیئے کے مرتبہ سے ہے کے یقینی اور قطعی مقام تک پہنچاوے۔ اور اگر وہی باتیں کرے کہ جس حد تک ایک عقلمند انسان کرسکتا ہے تو ایسی کتاب کے الہامی ہونے پر کوئی یقینی اور قطعی دلیل قائم نہیں ہوسکتی۔ اور اگر اُس کو الہامی مان بھی لیں تب بھی اُس کی تعلیم محض بے سود ہے کیونکہ وہ یقین کے اعلیٰ مرتبہ تک نہیں پہنچا سکتی۔
یہ بات یاد رہے کہ الہامی کتاب میں الٰہی طاقت کا پایا جانا ضروری ہے اور اگر کسی کتاب میں حقائق معارف موجود ہوں اور عمدہ عمدہ گیان اور معرفت یا حکمت اور فلسفہ کی باتیں اُس میں پائی جائیں تو محض اس قدر بیانات سے وہ الہامی کتاب نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ یہ سب باتیں انسانی قُوےٰ کے حلقہ کے اندر ہیں۔ انسان کی تیزئ ذہن