معجزات کے ساتھ ہدایت دوں گا اور ان کو اس قسم کے جلالی معجزات کی پناہ میں لے آؤں گا جو کوہِ طُور پر دکھلائے گئے تھے۔ سو جلالی معجزات وہی ہیں جن کا ظہور اس زمانہ میں شروع ہوگیا ہے جن کی اس بندہ کے ذریعہ سے خدا نے پہلے سے خبر دی تھی جیسا کہ ابھی ذکر ہوچکاایسا ہی اُس نے اور بہت سے نشان میرے ہاتھ پر دکھلائے کہ اگروہ سب کے سب لکھے جائیں تو ایک ضخیم کتاب میں بھی سما نہیں سکتے۔ غرض خدا کے وہ جلالی معجزات اور وہ ہیبت ناک آیات اور وہ ڈرانے والی چمک جو کوہ طور پر ظاہر ہوئی تھی پھر اب دوبارہ وہی قہری نشان دنیا میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ چنانچہ طاعون تمام قوموں کو تباہ کر رہی ہے۔زلزلے آرہے ہیں اور ستارے ہیبت ناک آواز کے ساتھ ٹوٹتے ہیں اور وہ خدا جو غافلوں کی آنکھوں سے مخفی تھا اب وہ چاہتا ہے کہ کھلے طور پر اپنے تئیں دنیا پر ظاہر کرے۔
اب میں اصل مطلب کی طرف رجوع کرکے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ؔ ہم نے کس طرح شناخت کیا کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے۔ اے دوستو ! اس جگہ اول یہ بات بیان کرنے کے لائق ہے کہ خدا کے کلام میںیہ ضروری امر ہے کہ وہ انسانی کلام سے صریح مابہ الامتیاز رکھتا ہو کیونکہ جس حد تک عقل سلیم خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کی طرف رہبری کرتی ہے اگر خدا تعالیٰ کا کلام بھی فقط اسی حد تک رہبری کرے اور کوئی زیادہ مرتبہ یقین اور معرفت کا عطا نہ کرسکے تو اُس کو انسانی عقل پر ترجیح کیا ہوئی؟ اور اس صورت میں وہ کیونکر خدا کا کلام سمجھا جائے۔ مثلاً عقل سلیم باری تعالیٰ کی ہستی پر صرف یہ دلائل پیش کرتی ہے کہ اس عالم کی ترتیب محکم اور نظام ابلغ پر نظر ڈال کر ماننا پڑتا ہے کہ ضرور اس عالم کا کوئی صانع ہوگا۔ مگر عقل یہ نہیں دکھلا سکتی کہ درحقیقت وہ صانع موجود بھی ہے۔ پس اگر کوئی کتاب جس کو خدا کاکلام سمجھا جاتا ہے صرف اسی حد تک رہبری کرتی ہے جس حد تک عقل سلیم رہبری کرتی ہے تو وہ