بیانؔ نہیں فرماتا بلکہ نمونہ کے طورپر اپنا علم غیب ظاہر کرتا ہے اور اپنی ہر ایک صفت کا ثبوت دیتا ہے مگر وید صرف قصہ کے رنگ میں خدا کی صفات کا ذکر کرتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے قصّے اُس نے کسی دوسرے سے سنے ہیں اور اُن کی نقل کردی ہے۔
پس ایسی کتاب کسی انسان کو تازہ گیان اور تازہ معرفت نہیں بخش سکتی بلکہ اپنی مجبوری ظاہرکرکے رفتہ رفتہ ایسے لوگوں کو جو اُس کے پیرو ہیں دہریّت کی طرف کھینچتی ہے اور انجام کار اپنا درماندہ ہونا دِکھلاکر اُن کے معمولی ایمان کے لئے بھی سِمِّ قاتل ہوجاتی ہے کیونکہ آخر کار اُن کے ذہن اس طرف منتقل ہوجاتے ہیں کہ اگر مثلاً پرمیشر عالم الغیب ہوتا تو اس کا بیان عالم الغیب ہونے کے بارہ میں صرف قصّہ کے طور پر نہ ہوتا بلکہ وہ اپنے علم غیب کا کوئی نمونہ پیش کرتا۔ کیا وید کا پرمیشر صرف قصّوں کے رنگ میں اپنی صفات پیش کرکے یہ اُمید رکھتا ہے کہ اُس کی اُن بے ثبوت صفات کو مان لیا جاوے اور بغیر کسی پیش کردہ دلیل کے اُس کو عالم الغیب سمجھ لیا جائے یا ایسا ہی دوسری صفات اُس کی تسلیم کرلی جائیں۔ خدا کی کتاب کا تو یہ مقصد ہونا چاہیئے کہ انسان کے معمولی علم سے جو خدا تعالیٰ اور اُس کی صفات کی نسبت محض قصوں کے رنگ میں ہے ترقی دے کر یقینی علم تک اُس کو پہنچاوے نہ کہ وہ علم ناقص جو انسانوں کو پہلے ہی سے حاصل ہے وہی اس کے سامنے پیش کرے۔ خصوصاً اِس زمانہ میں جب کہ عام حالت اکثر انسانوں کی دہریت تک پہنچ گئی ہے ایسی قصہ گوئی بجز اِس کے کیا فائدہ دے سکتی ہے کہ دہریہ طبع لوگ اور بھی اُس پر ہنسی ٹھٹھا کریں۔ ہر ایک واقف کار جانتا ہے کہ آجکل خدا تعالیٰ کے وجود کے بارے میں نہایت تیز مخالفت کی گئی ہے اور اُس کی ہستی کی نسبت ہزارہا اعتراض اُٹھائے گئے ہیں پس اِس زمانہ میں وہی خدا کی کتاب بگڑی ہوئی طبیعتوں کو سیدھا کرسکتی ہے کہ اس بھڑکتی ہوئی آگ پر اپنے زبردست نشانوں کے ساتھ پانی کا کام دے۔ جب کہ صرف قصّے