ہیں جو معجزات اورکرامات اور خرق عادت کے طور پر ظہور میں آرہے ہیں اور آئیں گے اور دنیا دیکھے گی کہ وہ چمک کس طرح سطح دنیا پر محیط ہو جائے گی خدا بہت پوشیدہ اور مخفی در مخفی ہے مگر جس طرح موسیٰ کے زمانہ میں ایک خوفناک تجلی اُس نے ظاہر کی تھی یہاں تک کہ اُس تجلی کی موسیٰ بھی برداشت نہ کرسکا اورغش کھاکر گر گیا اس زمانہ میں بھی وہ فوق العادت الٰہی چمک اپنا چہرہ دکھائے گی جس سے طالب حق تسلی پائیں گے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آج سے پچیس۲۵ برس پہلے مجھے مخاطب کرکے ایک عظیم الشان پیشگوئی کی ہے جو میری کتاب براھین احمدیہ میں درج ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اور اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا ’ ’ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔‘‘
پس اس الہامی عبارت میں خدا نے جو یہ فرمایا کہ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا یہ وہی چمکار ہے جو کوہِ طُور کی چمکار سے مشابہت رکھتی ہے اور اس سے مراد جلالی معجزات ہیں جیسا کہ کوہ طور پر بنی اسرائیل کو جلالی معجزات دکھائے گئے تھے اورؔ پھر اسی براہین احمدیہ میں جس کی تالیف پر پچیس۲۵ برس گذر گئے یہ وعدہ مجھے دیا گیا ہے کہ اگر لوگوں نے میری راہ اختیار نہ کی تو میں طاعون بھیجوں گا اور سخت مری پڑے گی اور زلزلے آئیں گے اور خوفناک آفتیں ظاہر ہوں گی۔ چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق طاعون اس مُلک میں پھیل گئی ہے اور زلزلے بھی آئے۔ اور خدا کا وعدہ ہے کہ ایک نئی وبا بھی جس سے اس ملک کے لوگ ناواقف ہیں اس ملک میں پھیل جائے گی اور انسان حیرت میں پڑیں گے کہ کیا ہونا چاہتا ہے۔ سو خدا فرماتا ہے کہ میں قوموں کو جو ہنسی ٹھٹھے اور توہین و تکذیب میں مشغول ہیں اور سخت دل ہیں ایسا ہی دکھاؤں گا اور اپنے بندوں کو جن کی قسمت میں ایمان مقدر ہے ان جلالی