حملوں پر ایک زمانہ دراز تک صبر کرکے آخر نہایت مجبوری سے محض دفاعی طور پر جنگ شروع کیا گیا تھا تو پھر یہ خیالات کہ کوئی خونی مہدی یا مسیح آئے گا اور جبراً دین پھیلانے کے لئے لڑائیاں کرے گا۔ اِن خیالات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ مہدی اور مسیح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کی مخالفت کرے گا اور اپنی روحانی کمزوری کے سبب تلوار کامحتاج ہوگا۔ پس ان خیالات سے بڑھ کر اور کونسا خیال لغو ہوسکتا ہے۔ جس امر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کرنا نہیں چاہا اور صدہا مصیبتیں دیکھیں اور پھر صبر کیا وہ امر مہدی اور مسیح کے لئے کیونکر جائز ہو جائے گا۔
ایساہی ایک اور حدیث صحیح مسلم میں ہے جو مسیح موعود کے بارے میں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود جنگ نہیں کرے گا۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ اَخْرَجْتُ عِبَادًا لِّیْ لَا یَدَ انِ لِقِتَالِھِمْ لِاَحَدٍ فَاَحْرِزْ عِبَادِیْ اِلَی الطُّورِیعنی اے آخری مسیح میں نے اپنے ایک بندے ایسی طاقتور زمین پر ظاہرکئے ہیں(یعنی یورپ کی قومیں) کہ کسی کو اُن کے ساتھ جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہوگی۔ پس تو اُن سے جنگ نہ کر بلکہ میرے بندوں کو طور کی پناہ میں لے آ۔ یعنی تجلّیات آسمانی اور رُوحانی نشانوں کے ذریعہ سے اُن بندوں کو ہدایت دے۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ یہی حکم مجھے ہوا ہے۔
اب واضح ہو کہ اُن بندوں سے مراد یورپ کی طاقتیں ہیں جو تمام دنیاؔ میں پھیلتی جاتی ہیں اور طُور سے مراد تجلّیاتِ حقہ کامقام ہے جس میں انوار و برکات اور عظیم الشان معجزات اور ہیبت ناک آیات صادر ہوتی ہیں او ر خلاصہ اس پیشگوئی کا یہ ہے کہ مسیح موعود جب آئے گا تووہ اُن زبردست طاقتوں سے جنگ نہیں کرے گا بلکہ دین اسلام کو زمین پر پھیلانے کے لئے وہی چمکتے ہوئے نور اُس پر ظاہر ہوں گے جو موسیٰ نبی پر کوہِ طُور میں ظاہر ہوئے تھے پس طور سے مراد چمکدار تجلّیات الہٰیّہ