داخل ثواب سمجھیں گے اور غازی کہلائیں گے مگر مسیح موعود جب آئے گا تو صاف طور پر لوگوں کو سنا دے گا کہ ’’دین کے معاملہ میں لڑائی کرناجائز نہیں ‘‘ اور یہ حدیث نہایت درجہ پر صحیح ہے کیونکہ جب کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کو جبراً پھیلانے کے لئے کوئی لڑائی نہیں کی بلکہ وہ صرف دفاعی جنگ تھی اس لئے کہ جنہوں نے مسلمانوں اور اُن کے بچوں اور عورتوں کو قتل کیا تھا اور قتل سے باز نہیں آتے تھے اور حد سے بڑھ گئے تھے اُن کو قتل کرنے کا حکم تھا ہاں پھر بھی اس قدر رعایت رکھی گئی تھی کہ جس کو دین اسلام کی سچائی سمجھ آجائے اوروہ برغبت خود اسلام میں داخل ہونا چاہے اُس کو اس قصاص سے معافی دی جاتی تھی کیونکہ اس زمانہ میں بباعث سخت مصائب کے اسلام لانا مرنے کے برابر تھا۔ پس جو شخص اسلام قبول کرتا تھا وہ گویا ایک قسم کی موت اپنے لئے پسند کرتا تھا اور اس طرح پر اسلام لانا سزائے موت کے قائم مقام ہوجاتا تھا۔
غرض یہ خیالات بھی کہ گویا کسی زمانہ میں کوئی مسیح اور مہدی اس غرض سے آئے گا کہ تا کافروں سے جنگ کرکے دین اسلام کو پھیلاوے۔ یہ خیالات اس قدر بیہودہ اور لغو ہیں کہ خود قرآن شریف اِن کے ردّ کرنے کے لئے کافی ہے۔ جس دین کے ہاتھ میں ہمیشہ اور ہر زمانہ میں آسمانی معجزات اور نشان موجود ہیں اور حکمت اور حق سے بھرا ہوا ہے اُس کو دین پھیلانے کے لئے زمینی ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے۔ اُس کا جنگ خدا کی چمکدار تائیدوں کے ساتھ ہے نہ لوہے کی تلوار کے ساتھ۔ کاش دیوانہ طبع مکّہ کے کافر اسلاؔ م کو تلوار سے نابود کرنا نہ چاہتے تا خدا یہ طریق پسند نہ کرتا کہ وہ تلوار سے ہی مارے جائیں۔
پس جبکہ یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہوا کہ ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبراً دین اسلام پھیلانے کے لئے کوئی جنگ نہیں کیا بلکہ کافروں کے بہت سے