اور نیز ان تمام آیات سے ظاہرہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں پیش دستی کرکے لڑائی کرنا ایک سخت مجرمانہ فعل قرار دیتا ہے بلکہ مومنوں کو جابجا صبر کاحکم دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3
3 ۱ ۔ یعنی تیرا دشمن جو تجھ سے بدی کرتا ہے اس کامقابلہ نیکی کے ساتھ کر اگر تو نے ایسا کیا تو وہ تیرا ایسا دوست ہو جائے گا کہ گویا رشتہ دار بھی ہے۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے 333۲ یعنی مومن وہ ہیں جو غصہ کھا جاتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ عفو اور درگذر سے پیش آتے ہیں اور اگرچہ انجیل میں بھی عفو اور درگذر کی تعلیم ہے جیسا کہ میں ابھی بیان کرچکا ہوں مگر وہ یہودیوں تک محدود ہے دوسروں سے حضرت عیسیٰ نے اپنی ہمدردی کا کچھ واسطہ نہیں رکھا اور صاف طور پر فرما دیا کہ مجھے بجز بنی اسرائیل کے دوسروں سے کچھ غرض نہیں خواہ وہ غرق ہوں خواہ نجات پاویں مگر قرآن شریف نے یہ فرمایا۔ 3 3۳ یعنی اے تمام انسانو ! جو زمین پر رہتے ہو میں سب کی طرف رسول ہوکر آیا ہوں نہ کسی خاص قوم کی طرف اور سب کی ہمدردی میرا مقصد ہے۔
ایسا ہی احادیث نبویہ میں آخری زمانہ کی نسبت یہ خبر دی ہے کہ جب آخری زمانہ میں مسیح موعود آئے گا تو وہ دنیا میں صلح کاری کا پیغام دے گا اور جنگ موقوف کرے گا یعنی ملّا لوگوں کی غلط کاریوں سے جو دینی جنگ کئے جائیں گے ان کی رسم دور کردے گا۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے جو حدیث کی کتابوں میں سے اول درجہ کی سمجھی جاتی ہے۔ حدیث کے لفظ یہ ہیں۔ یَضع الحربَ۔ اس حدیث میں یہ پیشگوئی ہے کہ اسلام میں آخری زمانہ میں غلطی کے طور پر بنام نہاد دین کی لڑائیاں شروع ہو جائیں گی یا جاہل سرحدی جو درندوں کی طرح ہیں کسی عیسائی وغیرہ کا خون کرنا