نہ کرے اور منع کرؔ دے کہ اُن کے گرجے مسمار نہ کئے جائیں اور یہی ہدایت احادیث نبویہ سے مفہوم ہوتی ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبکہ کوئی اسلامی سپہ سالار کسی قوم کے مقابلہ کے لئے مامور ہوتا تھا تو اُس کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے عبادت خانوں اور فقراء کے خلوت خانوں سے تعرض نہ کرے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کس قدر تعصب کے طریقوں سے دور ہے کہ وہ عیسائیوں کے گرجاؤں اور یہودیوں کے معبدوں کا ایسا ہی حامی ہے جیسا کہ مساجد کا حامی ہے ہاں البتہ اُس خدا نے جو اسلام کا بانی ہے یہ نہیں چاہا کہ اسلام دشمنوں کے حملوں سے فنا ہو جائے بلکہ اس نے دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اور حفاظت خود اختیاری کے طور پر مقابلہ کرنے کا اذن دے دیا ہے۔ جیسا کہ وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے:۔ 3 3 ۱؂ (سورۃ التوبۃ)3 ۲؂ دیکھو سورۃ الانفال الجزونمبر ۱۰ (ترجمہ) کیا تم ایسی قوم سے نہیں لڑوگے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور چاہا کہ رسول خدا کو جلا وطن کردیں اور انہوں نے ہی پہلے تمہیں قتل کرنا شروع کیا اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ۔ یعنی تم اس خیال سے کیوں ڈرتے ہو کہ ہم بہت ہی تھوڑے ہیں اور کفار شمار میں بہت ہیں ہم کیونکر اُن سے لڑسکتے ہیں۔ اور پھر ایک جگہ فرماتاہے۔33۳ ؂ یعنی جس شخص نے ایسے شخص کو قتل کیا کہ اُس نے کوئی ناحق کا خون نہیں کیا تھا یا کسی ایسے شخص کو قتل کیا جو نہ بغاوت کے طور پر امن عامہ میں خلل ڈالتا تھا اور نہ زمین میں فساد پھیلاتا تھا تو اُس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا۔ یعنی بے وجہ ایک انسان کو قتل کردینا خدا کے نزدیک ایسا ہے کہ گویا تمام بنی آدم کو ہلاک کردیا۔ ان آیات سے ظاہر ہے کہؔ بے وجہ کسی انسان کا خون کرنا کس قدر اسلام میں جرم کبیر ہے۔