کچھ نہ کچھ صحت نیت دل میں رکھ لیتا ہے کیونکہ اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے۔ پس مسلمانوں کو بڑی مشکلات پیش آتی ہیں کہ دونوں طرف اُن کے پیارے ہوتے ہیں۔ بہرحال جاہلوں کے مقابل پر صبر کرنا بہتر ہے کیونکہ کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اسلام میں کافروں کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم ہے تو پھر کیونکر اسلام صلحکاری کا مذہب ٹھہر سکتا ہے پس واضح ہوکہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ تہمت ہے اور یہ بات سراسر جھوٹ ہے کہ ؔ دین اسلام میں جبرًا دین پھیلانے کے لئے حکم دیا گیا تھا کسی پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ معظمہ میں تیر۱۳ہ برس تک سخت دل کافروں کے ہاتھ سے وہ مصیبتیں اٹھائیں اوروہ دُکھ دیکھے کہ بجز اُن برگزیدہ لوگوں کے جن کا خدا پر نہایت درجہ بھروسہ ہوتا ہے کوئی شخص اُن دکھوں کی برداشت نہیں کرسکتا اور اس مدت میں کئی عزیز صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت بے رحمی سے قتل کئے گئے اور بعض کو بار بار زدوکوب کرکے موت کے قریب کردیا اور بعض دفعہ ظالموں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس قدر پتھر چلائے کہ آپ سر سے پیر تک خون آلودہ ہوگئے اور آخر کار کافروں نے یہ منصوبہ سوچا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرکے اس مذہب کا فیصلہ ہی کردیں۔ تب اس نیّت سے اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور خدا نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تم اس شہر سے نکل جاؤ۔ تب آپ اپنے ایک رفیق کے ساتھ جس کا نام ابوبکرؓ تھا نکل آئے اور خدا کا یہ معجزہ تھا کہ باوجودیکہ صدہا لوگوں نے محاصرہ کیا تھا مگر ایک شخص نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا اور آپ شہر سے باہر آگئے اور ایک پتھر پر کھڑے ہوکرمکہ کو مخاطب کرکے کہا کہ ’’ اے مکہ تو میرا پیارا شہر اور پیارا وطن