تھا اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں ہرگز نہ نکلتا‘‘۔ تب اس وقت بعض پہلے نوشتوں کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ :۔ ’’ وہ نبی اپنے وطن سے نکالا جائے گا‘‘ مگر پھر بھی کفار نے اسی قدر پر صبر نہ کیا اور تعاقب کرکے چاہا کہ بہرحال قتل کردیں لیکن خدا نے اپنے نبی کو اُن کے شر سے محفوظ رکھا اور آنجناب پوشیدہ طور پر مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کی طرف چلے آئے اور پھر بھی کفار اس تدبیر میں لگے رہے کہ ؔ مسلمانوں کو بکلّی نیست و نابود کردیں اور اگر خدا تعالیٰ کی حمایت اور نصرت نہ ہوتی تو اُن دنوں میں اسلام کا قلع قمع کرنا نہایت سہل تھا کیونکہ دشمن تو کئی لاکھ آدمی تھا مگر مکہ سے ہجرت کرنے کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ستر۷۰ سے زیادہ نہ تھے اوروہ بھی متفرق ملکوں کی طرف ہجرت کرگئے تھے۔ پس اس حالت میں ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ جبر کرنے کی کونسی صورت تھی غرض جب کافروں کا ظلم نہایت درجہ تک پہنچ گیا اور وہ کسی طرح آزا ردہی سے باز نہ آئے اور انہوں نے اِس بات پر مصمم ارادہ کرلیا کہ تلوار کے ساتھ مسلمانوں کا خاتمہ کردیں تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دفاعی جنگ کے لئے اجازت فرمائی یعنی اس طرح کی جنگ میں جس کامقصد صرف حفاظتِ خود اختیاری اورکفار کا حملہ دفع کرنا تھا جیسا کہ قرآن شریف میں تصریح سے اِس بات کا ذکر کیا گیا ہے اوروہ آیت یہ ہے:۔ 33 ۱؂ (ترجمہ ) خدا کا ارادہ ہے کہ کفار کی بدی اور ظلم کو مومنوں سے دفع کرے یعنی مومنوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دے تحقیقاً خدا خیانت پیشہ ناشکر لوگوں کو دوست نہیں رکھتا۔ خدا اُن مومنوں کو لڑنے کی اجازت دیتا ہے جن پر کافر قتل کرنے کے لئے چڑھ چڑھ کے