جس قدر انجیل میں ہے وہ سب صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے دوسروں سے کچھ غرض نہیں ایسا ہی بجز قرآن شریف کے ہر ایک قوم کی الہامی کتاب جو کچھ احسان اور مروّت اور درگذر کی تعلیم دیتی ہے وہ اُسی قوم تک محدود ہے اور ہر ایک پہلی قوموں کی الہامی کتابیں بجز اپنی قوم کے دوسرے لوگوں کی ہمدردی سے واسطہ نہیں رکھتیں جیسا کہ انجیل شریف کی بھی ساری ہمدردی ساری درگذر سارے احسان کی تعلیم محض بنی اسرائیل کے لئے ہے دوسروں سے کچھ بھی غرض نہیں اور ہمارے پیارے ہموطن آریہ صاحبان اس کلمہ حق سے ناراض نہ ہوں کہ وید مقدس کی تعلیم سے یہ بات موزوں ہی نہیں کہ اس میں یہ حکم دیا جاتا کہ لوگ اپنے اپنے ؔ قصورواروں کے گناہ بخشا کریں کیونکہ جس حالت میں خود پرمیشر ایک گنہ پر کروڑہا جونوں میں ڈالتا رہتا ہے تو پھر کس منہ سے وہ لوگوں کو یہ نصیحت دے سکتا ہے کہ تم اپنے قصورواروں کے گنہ بخش دیا کرو۔ اور وید کے رُو سے دوسرے نبیوں کی توہین بھی کرنا شاید ثواب میں داخل ہے۔ شاید کسی صاحب کے دل میں یہ بھی خیال آوے کہ مسلمان بھی مباحثہ کے وقت نامناسب الفاظ دوسری قوموں کے بزرگوں کی نسبت استعمال کرتے ہیں پس یاد رہے کہ وہ قرآنی تعلیم سے باہر چلے جاتے ہیں اور بسا اوقات اُن کی اس بدتہذیبی کا موجب وہی لوگ ہوجاتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتے ہیں مثلاً ظاہر ہے کہ مسلمان لوگ کس قدرحضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عزت اور تعظیم کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اُن کو خدا کا پیارا رسول اور برگزیدہ یقین رکھتے ہیں لیکن جب ایک متعصب پادری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی سے باز نہیں آتا اور زبان درازی میں حد سے بڑھ جاتا ہے تو الزامی طور پر ایک مسلمان جس کو اس پادری کے کلمات سے کچھ درد پہنچا ہے ایسا جواب دیتا ہے کہ اس پادری کو بُرامعلوم ہو مگر پھر بھی وہ طریق ادب سے باہر نہیں جاتا