مواؔ فق آباہن کے منتر کی رُو سے شُدّھ کئے جاتے ہیں اور پھر بعد اس کے یہ خیال کیا جاتاہے کہ اب پرمیشر اُن کے اندرداخل ہوگیا ہے مگر آریوں کے اصول کے موافق پرمیشر ہرایک چیز کے اندر ہے خواہ وہ چیز پاک ہے یا ناپاک اور کسی منتر کی ضرورت نہیں۔ پھر اس جگہ یہ بھی اعتراض ہوتا ہے کہ اگر پرمیشر ہر ایک چیز میں پورے طور پر یعنی بتمام و کمال اندر ہے تو اس سے تعدّد لازم آتا ہے یعنی ایک پرمیشر نہیں بلکہ کروڑہا پرمیشر ہوگئے اور اگر پورے طور پر کسی کے اندر نہیں تو اس سے پرمیشر ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے اوردونوں امر باطل۔ پھر اسی مضمون میں یہ فقرہ ہے کہ ’’ پرمیشر عالم الغیب ہے ‘‘ ہم کہتے ہیں کہ بلا شبہ خدا تعالیٰ عالم الغیب تو ہے مگر خدا کی کتاب کا یہ منصب نہیں ہے کہ محض ایک قصہ گو کی طرح خدا تعالیٰ کو عالم الغیب قرار دے بلکہ اُس کا یہ منصب ہے کہ خدا کے عالم الغیب ہونے کے لئے اُس کاکوئی نمونہ پیش کرکے ثابت کرے یعنی ایسے ایسے آئندہ کے واقعات پیشگوئی کے طور پر بیان فرماوے جن سے یقین ہو جاوے کہ حقیقت میں خدا عالم الغیب ہے تا خدا تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لاکر ظنی ایمان یقین کے درجہ تک پہنچ جائے۔ کیونکہ ظنی طورپر تو دُنیا کے اکثر لوگ خدا کے وجود کے قائل ہیں اور اُس کو عالم الغیب بھی خیال کرتے ہیں تو پھر اُن کے علم اور اس علم میں جو وید پیش کرتا ہے فرق کیا ہوا۔ پس اگر وید میں یقینی علم کی تعلیم دینے کے لئے کوئی پیشگوئی بیان کی گئی ہے اور وہ پوری ہوچکی ہے تو اس شرتی کو پیش کرناچاہیئے ورنہ وید کے بیان اور ایک گنوار نادان کے بیان میں کچھ فرق نہیں۔ اور یہ ضروری امر ہے کہ جو کتاب خدا کی کتاب کہلاتی ہے وہ خدا کا عالم الغیب ہونا صرف زبان سے بیان نہ کرے بلکہ اُس کاثبوت بھی دے کیونکہ بغیر ثبوت کے نرایہ بیان کہ خدا عالم الغیب ہے انسان کے ایمان کو کوئی ترقی نہیں دے سکتا اور ایسی کتاب کی نسبت شبہ ہوسکتا ہے کہ اُس نے صرف سنی سنائی باتیں لکھی ہیں۔ اِسی وجہ سے قرآن شریف خدا تعالیٰ کی ایسی صفات کے بیان کرنے کے وقت صرف قصہ گو کی طرح