3 ۱؂ یعنی لوگوں کو کہہ دے کہ میں تمام دُنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں نہ صرف ایک قوم کے لئے اور پھر دوسری جگہ فرمایا 3۲؂ یعنی ہم نے کسی خاص قوم پر رحمت کرنے کے لئے تجھے نہیں بھیجا بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ تمام جہان پر رحمت کی جائے۔ پس جیسا کہ خدا تمام جہان کا خدا ہے ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام دُنیا کے لئے رسول ہیں اور تمام دُنیا کے لئے رحمت ہیں اور آپ کی ہمدردی تمام دنیا سے ہے نہ کسی خاص قوم سے۔ اور خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو بھی وہ کامل اور عام ہمدردی کی تعلیم دی ہے کہ کسی دوسرے رسول کوؔ ہرگز نہیں دی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 33 ۳؂ یعنی خدا حکم فرماتا ہے کہ تمام دُنیا کے ساتھ تم عدل کرو یعنی جس قدر حق ہے اُسی قدر لو اور انصاف سے بنی نوع کے ساتھ پیش آؤ۔ اور اس سے بڑھ کر یہ حکم ہے کہ تم بنی نوع سے احسان کرو یعنی وہ سلوک کرو جس سلوک کا کرنا تم پر فرض نہیں محض مروّت ہے۔ مگر چونکہ احسان میں بھی ایک عیب مخفی ہے کہ صاحبِ احسان کبھی ناراض ہوکر اپنے احسان کو یاد بھی دلادیتا ہے۔ اس لئے اِس آیت کے آخر میں فرمایا کہ کامل نیکی یہ ہے کہ تم اپنے بنی نوع سے اِس طور سے نیکی کرو کہ جیسے ماں اپنے بچہ سے نیکی کرتی ہے کیونکہ وہ نیکی محض طبعی جوش سے ہوتی ہے نہ کسی پاداش کی غرض سے یہ دِل میں ارادہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ بچہ اس نیکی کے مقابل مجھے بھی کچھ عنایت کرے۔ پس وہ نیکی جو بنی نوع سے کی جاتی ہے کامل درجہ اُس کا یہ تیسرا درجہ ہے جس کو3کے لفظ سے بیان فرمایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تعلیم انجیل میں نہیں ہے بلکہ نیکی اور احسان اور معافی کی تعلیم