یہی ہے۔
اور کیا عیسائی صاحبان اِس اقرار سے کہیں بھاگ سکتے ہیں کہ اُس زمانہ میں نہ صرف حضرت عیسیٰ کو خدائے واحد لاشریک کی جگہ بٹھایا گیا تھا بلکہ اُن کی تصویر بھی ایک قسم کا خدا ہی سمجھی گئی تھی۔ اور اُن کی والدہ بھی اس خدائی میں شریک ٹھہرائی گئی تھی۔ پھر جب ہمارے بزرگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں ظاہر ہوئے تو ایک انقلاب عظیم دنیا میں آیا اور تھوڑے ہی دنوں میں وہ جزیرۂ عرب جو بجزبت پرستی کے اورکچھ بھی نہیں جانتا تھا ایک سمندر کی طرح خدا کی توحید سے بھر گیا۔ علاوہ اس کے یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قدر خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان اور معجزات ملے وہ صرف اُس زمانہ تک محدود نہ تھے بلکہ قیامت تک اُن کا سلسلہ جاری ہے۔ اور پہلے زمانوں میں جو کوئی نبی ہوتا تھا وہ کسی گذشتہ نبی کی اُمّت نہیں کہلاتا تھا گو اُس کے دین کی نصرت کرتا تھا اور اُس کو سچا جانتا تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت اُن پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ اُن کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو اُن کی اُمّت سے باہر ہو بلکہ ہر ایک کو جو شرف مکالمہ الہٰیّہ ملتا ہے وہ انہیں کے فیض اور اُنہیں کی وساطت سے ملتا ہے اور وہ اُمّتی کہلاتا ہے نہ کوئی مستقل نبی۔ اور رجوع خلائق اور قبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج کم سے کم بیس۲۰ کروڑ ہر طبقہ کے مسلمان آپ کی غلامی میں کمربستہ کھڑے ہیں اور جب سے خدا نے آپ کو پیدا کیا ہے بڑے بڑے زبردست بادشاہ جو ایک دُنیا کو فتح کرنے والے تھے۔ آپ کے قدموں پر ادنیٰ غلاموں کی طرح گرے رہے ہیں اور اس وقت کے اسلامی بادشاہ بھی ذلیل