چاکروں کی طرح آنجناب کی خدمت میں اپنے تئیں سمجھتے ہیں اور نام لینے سے تخت سے نیچے اُتر آتے ہیں۔
اب سوچنا چاہئے کہ کیا یہ عزت کیا یہ شوکت کیا یہ اقبال کیا یہ جلال کیا یہ ہزاروں نشان آسمانی کیا یہ ہزاروں برکات ربانی جھوٹے کو بھی مل سکتی ہیں۔ ہمیں بڑا فخر ہے کہ جس نبی علیہ السلام کا ہم نے دامن پکڑا ہے خدا کا اس پر بڑا ہی فضل ہے۔وہ خدا تو نہیں مگر اس کے ذریعہ سے ہم نے خدا کو دیکھ لیا ہے۔ اُس کا مذہب جو ہمیں ملا ہے خدا کی طاقتوں کا آئینہ ہے اگر اسلام نہ ہوتا تو اِس زمانہ میں اِس بات کا سمجھنا محال تھاکہ نبوّت کیا چیز ہے اور کیا معجزات بھی ممکنات میں سے ہیں اور کیا وہ قانون قدرت میں داخل ہیں۔ اِس ؔ عقدے کو اُسی نبی کے دائمی فیض نے حل کیا اور اُسی کے طفیل سے اب ہم دوسری قوموں کی طرح صرف قصہ گو نہیں ہیں بلکہ خدا کا نو ر اور خداکی آسمانی نصرت ہمارے شامل حال ہے۔ ہم کیا چیز ہیں جو اِس شکر کو ادا کر سکیں کہ وہ خدا جو دوسروں پر مخفی ہے اور وہ پوشیدہ طاقت جو دوسروں سے نہاں در نہاں ہے۔ وہ ذو الجلال خدا محض اس نبی کریم کے ذریعہ سے ہم پر ظاہر ہوگیا۔
پھر یہ عجیب بات ہے کہ اُسی کامل نبی سے مخالف قوموں کاسب سے بڑھ کر بغض ہے۔ اُسی کی توہین کے لئے اور اُسی کی تکذیب کی غرض سے جس قدر دُنیا میں کتابیں شائع ہوئی ہیں ابتدائے دُنیا سے آج تک کسی اور نبی کی توہین کے لئے اِس کثیر مقدار کی کتابیں شائع نہیں ہوئیں۔ اِس سے ثابت ہے کہ جس سے خدا زیادہ پیار کرتا ہے اور جس کو زیادہ اپنے جلال اور بزرگی سے حصہ بخشتا ہے اُسی سے یہ اندھی دُنیا زیادہ دشمنی کرتی ہے مگر اُسی عظیم الشان نبی نے ہمیں سکھایا ہے کہ جن جن نبیوں او رسولوں کو دُنیا کی قومیں مانتی چلی آئی ہیں اور خدا