کیونکہ بدذات مفتری کو جو خدا پر افترا کرتاہے اور کہتا ہے کہ مجھے خدا کی طرف سے وحی ہوئی اور خدا نے مجھ سے کلام کیا حالانکہ نہ کوئی وحی اُس پر نازل ہوئی اور نہ خدا نے کوئی اُس سے کلام کیا اس قدر عزت ہرگز نہیں دی جاتی ، جو شخص جائز رکھتا ہے جو ایسی عزّت مفتری کو بھی دی جاتی ہے اور ایسی مدد اور نصرت اور ایسے آسمانی نشان اُس کذّاب دجّال کو بھی ملتے ہیں جو خدا پر افترا کرتا ہے ایسا شخص دراصل خداپر ایمان نہیں رکھتا اور درپردہ دہریہ ہے یہی سچائی کی ایک زبردست دلیل ہے جو دنیا کے تمام نبیوں سے زیادہ ہمارے سید و مولیٰ اور ہمارے محترم آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی ہے کیونکہ وہ اقبال اور عزت اور خدا کی مدد اور نصرت جو اُن کو ملی وہ کسی اور نبی کو حاصل نہیں ہوئی۔ آپ ایسے وقت میں آئے جو دُنیا شرک اور بت ؔ پرستی سے بھری ہوئی تھی کوئی پتھر کی پوجا کرتا تھا اور کوئی آگ کی پرستش میں مشغول تھا اور کوئی سورج کے آگے ہاتھ جوڑتا تھا۔ کوئی پانی کو اپنا پرمیشر خیال کرتا تھا اور کوئی انسان کو خدا بنائے بیٹھا تھا۔ علاوہ اس کے زمین ہر ایک قسم کے گناہ اور ظلم اور فساد سے بھری ہوئی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اُس زمانہ کی موجودہ حالت کے بارہ میں قرآن شریف میں خود گواہی دی ہے اور فرماتا ہے3 ۱ یعنی دریا بھی بگڑ گئے اور خشک زمین بھی بگڑ گئی ۔ مطلب یہ کہ جس قوم کے ہاتھ میں کتاب آسمانی تھی وہ بھی بگڑ گئی اور جن کے ہاتھ میں کتاب آسمانی نہیں تھی اور خشک جنگل کی طرح تھے وہ بھی بگڑ گئے اور یہ امر ایک ایسا سچاواقعہ ہے کہ ہر ایک ملک کی تاریخ اس پر گواہ ناطق ہے۔ کیا آریہ ورت کے دانا موء رّخ اس سے انکار کرسکتے ہیں کہ آنجناب کے ظہور کا زمانہ درحقیقت ایسا ہی تھا اور بُت خانوں کو اِس قدر عزت دی گئی تھی کہ گویا وید کا اصل مذہب