برخلاؔ ف ہے اور یہی سچی تعلیم ہے تم دونوں تعلیموں پر نظر ڈال کر خود سوچ لو اور پھر اُس تعلیم کو اختیار کرو جو سچے گیان اور سچی معرفت کی رُو سے صحیح ٹھہرتی ہے۔ خدا تمہیں ہدایت دے۔ آمین
پھر آریہ صاحبوں کی طرف سے جو مضمون سنایا گیا اُس میں ایک یہ بھی فقرہ تھا کہ پرماتما یعنی پرمیشر سب میں ہے جاہلوں سے دُور عقلمندوں سے نزدیک۔ اس عبارت میں جو تناقض ہے اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک فقرہ عبارت میں تووید کی تعلیم یہ بیان کرتی ہے کہ پرماتما سب میں ہے اور پھر دوسرے فقرہ میں یہ بیان ہے کہ وہ جاہلوں سے دور ہے۔ علاوہ اس کے چونکہ بموجب اصول آریہ سماج کے کوئی رُوح یا کوئی اجسام کا ذرّہ پرمیشر کا بنایا ہوا نہیں اور پرمیشر کو قرب مخلوق کا وہ موقعہ بھی نہیں ملا جو بنا نے والے کو اُس چیز کے لئے ضروری ہوتا ہے جس کو وہ بناتا ہے تو پھر کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ پرماتما سب میں ہے جب کہ اُس کو قدیم اور انادی چیزوں سے کچھ بھی تعلق نہیں اور نہ پرمیشر ان کے اندر جاکر اُن کی قوتوں کو اصل تعداد سے بڑھاسکتا ہے اور نہ اصل تعداد سے گھٹا سکتا ہے تو اس مداخلت بیجاکے کیا معنی ہوئے کہ پرماتما سب میں ہے ہر ایک شخص سوچ سکتا ہے کہ محض فضول طور پر پرمیشر کا اندر ہونا سراسر ایک لغو حرکت ہے جس سے اگر ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ پرمیشر نے مخلوق کے اندر داخل ہوکر اپنا محدود ہونا ثابت کردیا ہے کیونکہ جو چیز کسی محدود چیز کے اندر سما سکتی ہے وہ بھی بلاشبہ محدود ہے آریہ صاحبوں کی یہ عجیب عقل ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے عرش پر ہونے کے معنوں کو نہ سمجھ کر محض جہالت سے یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا خدا محدود اور عرش کا محتاج ہے اور دوسری طرف خود اپنے پرمیشر کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ تمام مخلوق چیزوں کے اندر ہے اور جب کہ وہ تمام چیزوں کے اندر ہے تو کیا وہ اُن بتوں اور مورتیوں کے اندر نہیں ہے جن کی بت پرست لوگ پرستش کرتے ہیں بلکہ آریوں کو تو چاہئیے کہ بت پرستوں سے زیادہ مخلوق پرستی کریں کیونکہ بت پرست تو پرمیشر کا مظہر صرف اُن بتوں کو خیال کرتے ہیں کہ جو اُن کی مذہبی رسم کے