یہ اقرار ہے کہ ہم خدا کے رسولوں میں تفرقہ نہیں ڈالتے اس طرح پر کہ بعض کو قبول کریں اور بعض کو ردّ کردیں بلکہ ہم سب کو قبول کرتے ہیں۔ ہم نے سنا اور ایمان لائے اے خدا ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری طرف ہی ہماری بازگشت ہے۔ ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف ان تمام نبیوں کا ماننا جن کی قبولیت دنیا میں پھیل چکی ہے مسلمانوں کا فرض ٹھہراتا ہے اور قرآن شریف کی رُو سے اُن نبیوں کی سچائی کے لئے یہ دلیل کافی ہے کہ دنیا کے ایک بڑے حصہ نے اُن کو قبول کیا اور ہر ایک قدم میں خدا کی مدد اور نصرت اُن کے شامل حال ہوگئی۔ خدا کی شان اس سے بلند تر ہے کہ وہ کروڑہا انسانوں کو اُس شخص کا سچا تابع اور جان نثار کرے جس کو وہ جانتا ہے کہ خدا پر افترا کرتا ہے اور دُنیا کو دھوکا دیتا ہے اور دروغگو ہے اور اگر کاذب کو ایسی ہی عزت دی جائے جیسا کہ صادق کو تو امان اُٹھ جاتا ہے اور امر نبوت صادقہ مشتبہ ہو جاتا ہے پس یہ اصول نہایت صحیح اور سچا ہے کہ جن نبیوں کو قبولیت دی جاتی ہے اور ہرایک قدم میں حمایت اور نصرت الٰہی اُنؔ کے شامل حال ہوجاتی ہے وہ ہرگز جھوٹے ہوا نہیں کرتے۔ ہاں ممکن ہے کہ پیچھے آنے والے اُن کے نوشتوں میں تحریف تبدیل کردیں اور اپنی نفسانی تفسیروں سے اُن کے مطالب کو اُلٹا دیں بلکہ پرانی کتابوں کے لئے یہ بھی ایک لازمی امر ہے کہ مختلف خیالات کے آدمی اپنے خیال کے طور پر اُن کے معنی کرتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ وہی معنے جزو کتاب کی سمجھے جاتے ہیں اور پھر انہیں مختلف خیالات کی کشش کی وجہ سے کئی فرقے ہو جاتے ہیں اور ہر ایک فرقہ دوسرے فرقہ کے مخالف معنی کرتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ یہ عقیدہ جس کو قرآن شریف نے ہمیں سکھایا ہے نہایت سچا اور مستحکم عقیدہ ہے کیونکہ انسانی فطرت شہادت دیتی ہے کہ جن نبیوں کی عام طور پر کروڑہا لوگوں میں قبولیت پھیل جاتی ہے اور دلوں میں اُن کی نہایت درجہ محبت اور عظمت بیٹھ جاتی ہے اور نصرت الٰہی بارش کی طرح اُن پر برستی ہے وہ ہرگز جھوٹے نہیں ہوتے