ہوا تھا اور اُس کلام خدا پر ہم ایمان لائے جو موسیٰ نبی کو دیا گیا تھا اور اُس کلام خدا پر ہم ایمان لائے جو عیسیٰ نبی کو دیا گیا تھا اور ہم اُن تمام کتابوں پر ایمان لائے جو دُنیا کے کُل نبیوں کو اُ ن کے ربّ کی طرف سے دی گئی تھیں یعنی اس کی طرف سے جس نے کھلے کھلے طور پراُن کی ربوبیت کی اور دنیا پر ثابت کیا کہ وہ اُس کاناصر اور حامی او رمُربی ہے خواہ وہ کسی قوم یا کسی ملک میں پیدا ہوئے تھے۔ ہم خدا کے نبیوں میں تفرقہ نہیں ڈالتے جو بعض کو قبول کریں اور بعض کو ردّ کریں بلکہ ہم سب کو قبول کرتے ہیں جو خدا کی طرف سے دُنیا میں آئے اور ہم اس طرح پر جو خدا نے سکھایا ہے اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور خدا کے آگے اپنی گردن ڈالتے ہیں پس اگر دوسرے لوگ بھی جو اسلام کے مخالف ہیں اسی طرح ایمان لاویں اور کسی نبی کو جو خدا کی طرف سے آیا ردّ نہ کریں تو بلاشبہ وہ بھی ہدایت پاچکے اور اگر وہ رُوگردانی کریں اور بعض نبیوں کو مانیں اور بعض کو ردّ کردیں تو انہوں نے سچائی کی مخالفت کی اور خدا کی راہ میں پھوٹ ڈالنی چاہی پس تو یقین رکھ کہ وہ غالب نہیں ہوسکتے اور اُن کو سزا دینے کے لئے خدا کافی ہے اور جو کچھ وہ کہتے ہیں خدا سن رہا ہے اور اُن کی باتیں خدا کے علم سے باہر نہیں۔ یہ طریق اصطباغ خدا نے تمہیں سکھایا ہے اور یہ خدا کا بپتسمہ ہے اور خدا کے بپتسمہ سے کونسا بپتسمہ بہتر ہوسکتاہے اور تم اس بات کا اقرار کرو کہ ہم اُسی خدا کے پرستار ہیں اور اُسی کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ میں نے اُن قرآنی آیات کا ترجمہ کیا ہے جو اُوپر گذر چکی ہیں۔ اسی طرح سورۃ البقرہ کے اخیر میں ایک آیت ہے اوروہ یہ ہے :۔33 3 ۱؂ یعنی رسول اور اُس کے ساتھ کے مومن اس کتاب پر ایمان لائے ہیں جو اُن پر نازل کی گئی اور ہر ایک خدا پر ایمان لایا اور اس کے فرشتوں پر اور اُس کی کتابوں پر اور اُس کے رسولوں پر اور اُن کا