جاتی ہیں حالانکہ وہ چیزیں محض اُس زندگی کے لئے ہیں جو صرف چند روزہ ہے۔ پھر کس طرح یہ خیال کیا جائے کہ وہ امور اور وہ ہدایتیں اور وہ آسمانی برکتیں جو رُوحانی حیات کا مدار ہیں جو جاودانی حیات ہے وہ کسی خاص قوم اور خاص ملک کو عطا ہوں اور دوسرے اُس سے بے خبر رہ کر ہلاکت کے گڑھے میں گریں۔ ہر ایک عقل جو تعصب اور پکش پات سے پاک ہے ہرگز اس کو قبول نہیں کرے گی اور خدائے پاک کو جوربّ العالمین ہے اس تہمت سے بَری سمجھیں گے جو وہ کسی خاص قوم کا ربّ ہو اور دوسروں سے کنارہ کشی کرے یہ پاک ہدایت ہمیں اس پاک کتاب سے ملی ہے جس کانام قرآن شریف اور فرقان حمید ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3 ۱ یعنی کوئی قوم اور بستی نہیں جس میں کوئی نبی نہیں گذرا۔ اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے 33333333۲ الجزواول سورۃ البقرۃ۔یعنی اے مسلمانو! تم اس طرح پر ایمان لاؤ اور یہ کہو کہ ہم اُس خدا پر ایمان لائے جس کا نام اللہ
ہے یعنی جیسا کہ قرآن شریف میں اُس کی صفات بیان کی گئی ہیں وہ جامع تمام صفاتِ کاملہ کا ہے اور تمام عیبوں سے پاک ہے اور ہم خدا کے اُس کلام پر ایمان لائے جو ہم پر نازل ہوا یعنی قرآن شریف پر اور ہم خدا کے اس کلام پر بھی ایمان لائے جو ابراہیم نبی پر نازل ہوا تھا اور ہم خدا کے اس کلام پر ایمان لائے جو اسمٰعیل نبی پر نازل ہوا تھا اور اُس کلامِ خدا پر ایمان لائے جو اسحاق نبی پر نازل ہوا تھا اور اُس کلامِ خدا پر ایمان لائے جو یعقوب نبی پر نازل ہوا تھا اور اُس کلامِ خدا پرایمان لائے جو یعقوب نبی کی اولاد پر نازل