اور کہتے ہیں کہ اگرانسانی قویٰ کو عمدہ اور کامل طور پر استعمال کیاجائے تو رہبری کے لئے وہی کافی ہیں اور بعض ایسے فرقے ہیں کہ وہ مانتے ہیں کہ خدا کا کلام دنیا میں آیا ہے مگر اُن کا خیال ہے کہ اس زمانہ میں خدا نے اپنی عادت کو بدل لیا ہے اور کلام الٰہی کا نزول آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے۔ اور کہتے ہیں کہ گو خدا تعالیٰ کسی زمانہ میں بولتا بھی تھا اور سنتا بھی۔ مگر اس زمانہ میں سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں گویا ایک قدیمی صفت اُس کی معطّل ہوگئی ہے اور گویا اُن کے نزدیک اُس کی صفات اِس زمانہ میں ناقص ہیں نہ کامل۔ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ کسی الہامی کتاب کو مانتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ قدیم سے خدا کا الہام ایک ہی زبان اور ایک ہی ملک اور ایک ہی قوم تک محدود رہا ہے اور الہام الٰہی کا دائرہ اس قدر تنگ ہے کہ بجز دو۲ چار۴ انسانوں کے جو کسی پہلے او ردُور دراز زمانہ میں کسی خاص ملک میں گذر چکے ہیں اور کسی حصہ زمین میں کوئی ملہم کبھی پیدانہیں ہو ا اور نہ صرف اِس حد تک بلکہ آئندہ کے لئے بھی تمام قوموں پر قطعاً یہ دروازہ بند ہے بجز ایک خاص قوم اور خاص مُلک کے۔ یہ ہیں متفرق مذاہب جو الہام کی نسبت مذکورہ بالا خیالات رکھتے ہیں مگر ہم نے اس جگہ یہ بیان کرنا ہے کہ ہماراکیا مذہب ہے۔ پسؔ واضح ہوکہ خدا نے ہمیں جس بات پر قائم کیاہے اور جس بات کو اپنی پاک کتاب کے ذریعہ سے ہم پر کھول دیا ہے وہ یہ ہے کہ خدا سچ ہے اور اس کا الہام سچ ہے اور چونکہ وہ خدا تمام دنیا کا خدا ہے نہ یہ کہ کسی ایک خاص فرقہ یا کہ کسی خاص قوم کا خدا اس لئے اُس نے اپنے اس ضروری فیض سے یعنی الہام سے جو ہدایت کا سرچشمہ ہے دنیا کے تمام حصوں کو منور اور مستفیض کیا ہے اور کسی قوم سے بخل نہیں کیا اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن امور پر جسمانی حیات کا مدار ہے جیسے زمین۔ پانی۔ آگ۔ ہوا۔ سورج۔ چاند۔ اناج وغیرہ یہ تمام چیزیں تمام ملکوں اور قوموں میں پائی