یہ سوال ایسا ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب مختلفہ کے پابندوں کو یہ جوش دلاتا ہے کہ وہ اپنے اپنے خیالات اور معتقدات کے موافق اس کاجواب دیں اس لئے میں نے بھی مناسب سمجھا کہ اس بارے میں کچھ لکھوں۔ اب واضح ہو کہ قبل اس کے جو میں اصل مطلب کی طرف توجہ کروں اس بحث کو مفید عام اور باترتیب بنانے کے لئے یہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ جو اپنے اپنے رنگ میں اس سوال کاجواب دے سکتے ہیں وہ کئی قسم کی رائیں رکھتے ہیں۔ (۱) ایک تو وہ ہیں جو قطعاً صانع عا م کے وجود سے ہی منکر ہیں پس جب کہ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کا وجود ہی ثابت نہیں تو پھر الہامی کتاب جس کا وجود صانع عالم کے وجود سے وابستہ ہے اُن کے نزدیک کوئی بھی نہیں۔ (۲) دوسرے وہ لوگ ہیں کہ جو پورے طور پر صانع عالم کے منکر تو نہیں مگر کسی حد تک منکر ضرور ہیں جیسے وہ صاحبان کہ اس بات کو نہیں مانتے کہ ذراتِ عالم اور اُن کی اتصالی اور انفصالی قوتیں پرمیشر نے بنائی ہیں یا رُوح اور اُن کی نہایت لطیف طاقتیں پرمیشر کی طرف سے ہیں بلکہ اُن کے نزدیک وہ سب خودبخود اور انادی ہیں لہٰذا اُن کے نزدیک بھی الہام ناممکن ٹھہرتا ہے کیونکہ بموجب اُن کے اصول کے رُوح میں اور پرمیشر میں کوئی رشتہ نہیں اور الہام کی فلاسفی یہی ہے کہ بوجہ ربط خالقیت اور مخلوقیت خدا اپنے بندہ کے اندر سے بولتا ہے پس اگر یہ فرض کیا جائے کہ خدا اور بندہ کی رُوح میں یہ رؔ بط نہیں تو ماننا پڑے گا کہ وہ بندہ سے دور اور الگ ہے۔ اس صورت میں جیسا کہ ہم کسی کے دل کے اندر ہوکر اُس سے بول نہیں سکتے ایسا ہی پرمیشر کا حال ہوگا۔ (۳) اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ الہام کو تو مانتے ہیں مگر اُن کے نزدیک خدا کاکلام کسی پر نازل نہیں ہوتا بلکہ انسان کے دل میں جو باتیں آتی ہیں وہ سب الہام ہیں۔ (۴) اور بعض لوگ ایسے گذرے ہیں اور اب بھی ہیں کہ وہ الہام کی ضرورت نہیں سمجھتے