بِسْمِ اللهِ الرَّحْمـٰنِ الرَّحِيمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
سب سے پہلے اُس خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں پیدا کیا اور نہ صرف ہمیں پیدا کیا بلکہ ہر ایک ذرہ ہمارے وجود کا اور اُن کی تمام قوتیں اور ایساہی ہماری تمام روحیں اور اُن کی تمام قوتیں اُس نے پیدا کیں کیونکہ وہ کامل خدا ہے نہ ناقص اور اُس کا فیض ہمارے تمام وجود پر محیط ہے نہ صرف بعض حصوں پر۔ اور جیسا کہ وہ ہمارا پیدا کرنے والا ہے ایساہی وہ اپنی طاقت کے ساتھ ہمیں زندہ رکھنے والا ہے۔ ہم اُس کے سہارے کے بغیر جی ہی نہیں سکتے کیونکہ ہم اُسی کے ہاتھ سے نکلے ہیں۔ ہاں اگر ہماری رُوحیں خود بخود ہوتیں تو بطور خود جی بھی سکتی تھیں کیونکہ اس صورت میں مستقل رُوحوں کو اُس کے سہارے کی ضرورت نہ تھی پس اُس خدا کاکہاں شکر ہوسکتا ہے جس کے فیض سے کوئی حصہ ہمارے وجود کاباہر نہیں ایسا ہی اس وقت ہمیں گورنمنٹ برطانیہ کا شکر کرنا بھی لازم ہے جس کی آزاد اور منصفانہ حکومت کی وجہ سے ہم بغیر کسی خوف کے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ بعد اس کے اے آریہ صاحبان ! اب آپ کی خواہش اور تحریک کے موافق یہ مضمون آپ کے سوال تجویز کردہ کے متعلق اس جلسہ میں سنایا جاتا ہے اور جہاں تکؔ مجھ سے ہوسکا میں نے برعایت تہذیب اختصار سے کام لیا ہے مگر یہ بھی مناسب نہیں سمجھا کہ ناتمام لکھا جائے اب میں ذیل میں اصل مطلب بیان کرتا ہوں وباللّٰہ التوفیق ۔ یہ سوال کہ جو آپ صاحبوں کی مجلس نے پیش کیا ہے کہ
دُنیا میں کوئی الہامی کتاب ہے یا نہیں
اور اگر ہے تو کون ؟