کے پیرو ہیں۔ بلکہ شاکت مت والے بھی تو اسی قوم میں سے ہیں جو فسق و فجور میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ بدکاریوں کا میدان اس قدر انہوں نے فراخ کردیا ہے جو حقیقی ماں یا بہن یا لڑکی سے بھی حرام کاری کرنا کچھ مضائقہ نہیں سمجھتے کیا وہ آریہ نہیں ہیں۔ پھر جبکہ وید کی پیروی کرنے والے فسق و فجور اور شرک اورمخلوق پرستی میں اس حد تک پہنچے ہوئے ہیں کہ دنیا میں اُن کی نظیر نہیں مل سکتی توکیا لازم تھا کہ اسلام جیسے پاک مذہب پر اعتراض کیا جاتا ؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اسلام میں کوئی بھی ایسا امر نہیں کہ جو ہندو مذہب کی کسی نہ کسی شاخ میں نہ پایا جاتا ہو؟ اور اسلام اپنی کامل توحید کے ساتھ ایسا مخصوص ہے کہ وید میں اس کا نمونہ تلاش کرنا لاحاصل ہے۔ تا ہم ہمارا یہی اعتقاد ہے کہ گو موجودہ تعلیم وید کی ایک گمراہ کرنے والی تعلیم ہے لیکن کسی زمانہ میں وہ ان بیہودہ تعلیموں سے پاک ہوگا۔ اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اس ملک میں خدا کے نبی ہوئے ہیں کیونکہ جس جگہ بیمار ہے اُس جگہ طبیب کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ آریہ صاحبوں نے مسلمانوں کو اپنے گھر پر بلا کر وہ گندہ نمونہ اپنے اخلاق کا دکھلایا جس کو ہم کبھی نہیں بھولیں گے آخر شرافت بھی کچھ چیز ہے۔ راقم مرزا غلام احمد قادیانی ۲۰؍ مئی ۱۹۰۸ ؁ء