اپیلؔ کے وقت ضرور مع خرچہ اُس پر ڈِگری ہوسکتی تھی۔ 3 ۱؂ سو اے ہموطن پیارو ! یہ وید وِدّیا کا ایک نمونہ ہے جو ہم نے اس جگہ پیش کیا ہے اور آگے چل کر انشاء اللہ اور بھی کئی نمونے بیان کریں گے۔ تم خود سوچ لوکہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اوّل خدا کو مالک قرار دینا اور اقرار کرنا کہ وہ مالکانہ تصرّفات اپنی مخلوق میں کرسکتا ہے اور پھر اُسی منہ سے یہ بھی کہنا کہ وہ مالک نہیں ہے بلکہ وہ صرف ایک بادشاہ کے درجہ پر ہے اور اس کی مخلوقات محض رعایا کی مانند ہے اور جیسا کہ رعایا اپنے حقوق اپنے بادشاہ سے طلب کرسکتی ہے ایسا ہی اس کے بندے حق رکھتے ہیں کہ انصاف کرنے کے لئے اس کو مجبور کریں کہ ہماری نسبت ایسا تو نے کیوں کیا اور ایسا کیوں نہ کیا اوروہ مجبور ہوکر یہ جواب دیتا ہے کہ یہ کمی بیشی میری طرف سے نہیں بلکہ تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے۔ یہ امر واقعی ہے کہ ہر ایک شخص جو اپنی نسبت خدا کو منصف ٹھہراتا ہے وہ اپنے ذہن میں اپنا حق خدا پر ٹھہرالیتا ہے جو واجب الادا ہے اور دل میں خیال کرلیتا ہے کہ میں نے خدا کی اس قدر جو اطاعت کی۔ یہ میرا ایک حق خدمت ہے جس کا عوض ادا کرنا اس کا فرض ہے۔ اور اگر وہ حق کو ادا نہ کرے تو ناانصافی کے جرم کامرتکب ہوگا لیکن قرآن شریف نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ انسان مع اپنی رُوح اور تمام قوتوں اور ذرہ ذرہ وجود کے خدا کی مخلوق ہے جس کو اُس نے پیدا کیا۔ لہٰذا قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے ہم خدا تعالیٰ کے خالص مِلک ہیں اور اُس پر ہمارا کوئی بھی حق نہیں ہے جس کا ہم اُس سے مطالبہ کریں یا جس کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ ملزم ٹھہر سکے اِ س لئے ہم اپنے مقابل پر خدا کانام منصف نہیں رکھ سکتے بلکہ ہم بالکل تہیدست ہونے کی وجہ سے اُس کا نام رحیم رکھتے ہیں۔ غرض منصف کہنے کے اندر یہ شرارت مخفی ہے کہ گویا ہم اس کے مقابل پر کوئی حقوق رکھتے ہیں اور اُس حق کے ادا نہ کرنے کی صورت میں اُس کو حق تلفی کی طرف منسوب کرسکتے ہیں۔ سو قرآن کی تعلیم اس جگہ آریوں کی تعلیم کے سراسر