پر یہؔ حق ٹھہراتے ہیں کہ اُن کی مدد کریں ورنہ دوسرا شخص اُس پر کوئی حق نہیں ٹھہراسکتا۔ مبارک وہ جو اپنی کمزوریوں کا اقرار کرکے خدا سے رحم چاہتا ہے اور نہایت شوخ اور شریر اور بدبخت وہ شخص ہے جو اپنے اعمال کو اپنی طاقتوں کا ثمرہ سمجھ کر خدا سے انصاف چاہتا ہے اور ابھی میں بیان کرچکا ہوں کہ آریہ صاحبوں نے جو اپنے اعمال کے مقابل پر خدا کانام منصف رکھا ہے۔ یہ غلطی محض اس وجہ سے واقع ہوئی ہے کہ اُنہوں نے اپنے ارواح اور اُن کی تمام قوتوں کو اور ایسا ہی اپنے اجسام اور اُن کی طاقتوں کو خدا کی طرح قدیم اور انادی اور غیر مخلوق سمجھ لیا ہے جو پرمیشر کی طرف سے نہیں بلکہ خود بخود ہیں۔ اور اگر وہ مخلوق کی نسبت قدامت نوعی کے قائل ہوتے نہ قدامت شخصی کے تو اس کفر میں نہ پڑتے مگر انہوں نے قدامت شخصی کا اعتقاد رکھ کر یعنی یہ کہہ کر کہ ارواح اور ذرّاتِ اجسام سب انادی ہیں مخلوق نہیں ہیں ایک بھاری کفر اپنے لئے سہیڑ لیا۔ غرض وہ لوگ قدامت شخصی کے قائل ہوکر پرمیشر کے مقابل پر اُس کے شریکوں کی طرح اپنے تئیں تصور کرتے ہیں یا مثلاً اس طرح تصور کرتے ہیں جیسا کہ رعایا کو اپنے بادشاہ کے مقابل پر خیال ہوتا ہے اور جیسا کہ رعایا اپنے بادشاہ سے اپنے حقوق طلب کرسکتی ہے اور اگر کوئی ظالم بادشاہ اُن کے حقوق کو پامال کرنا چاہے تو اپنے حقوق پیش کرکے اُس سے انصاف چاہتی ہے یا ناچار بغاوت کے لئے سر اُٹھاتی ہے اور آریہ صاحبوں کے اصول کے رُو سے یہ بات سچ بھی ٹھہرتی ہے کیونکہ جس حالت میں تمام روحیں اور جسموں کے تمام ذرّات پرمیشر کے پیدا کردہ نہیں ہیں تو کیوں نہ اُس سے اپنے حقوقِ خدمت طلب کئے جائیں اور کیوں نہ اُس کو انصاف دینے کے لئے مجبور کیا جائے اِس حالت میں وہ ہوتا کون ہے جو حقوق دباکر بیٹھا رہے بلکہ اگر وہ واجب حقوق کو ادا نہ کرے تو اگر آسمان کے نیچے اُس کے اُوپر کوئی دوسری عدالت ہوتی