اُن کی جاگیریں ہیں۔ ان تبرکات کو دیکھنے کے واسطے اور ان سے ۔۔۔ فیض حاصل کرنے کے واسطے بعض بڑے بڑے آدمی وہاں جایاکرتے ہیں چنانچہ ایک دفعہ گذشتہ مہاراجہ صاحب والئ ریاست فریدکوٹ بھی خود وہاں گئے تھے اور مشہور ہے کہ انہوں نے ایک ہاتھی اور ایک ہزار روپیہ نقد اِن تبرکات کے سبب گرو صاحب کی نذر کیا تھا۔ قرآن شریف اور دیگر تبرکات مفصلہ ذیل صاحبان کو ۴ ؍ اپریل ۱۹۰۸ ء شنبہ کے دن گورو بشن سنگھ صاحب نے دکھائے چنانچہ قرآن شریف کو کھول کر پڑھا گیا۔ وہ ایک نہایت خوشخط لکھی ہوئی حمائل شریف ہے جس کا سائز تخمیناً ۳ انچ چوڑا اور ۴۲۱انچ لمبا ہے۔ ہر صفحہ پر ارد گرد سنہری لکیریں پڑی ہیں اور بعض مقامات پر سنہری بیل ہے۔ موجودہ گرو صاحب کا بیان ہے کہ پرانے گرو صاحبان سے یہ قرآن شریف بطور تبرک کے چلا آتا ہے۔
ہماری جماعت کے معزز ارکان میں سے جس جس صاحب نے موقعہ پر پہنچ کر اس قرآن شریف کی زیارت کی ہے اُن صاحبان کے نام یہ ہیں۔
(۱) ؔ مفتی محمد صادق صاحب اڈیٹر اخبار بدر قادیان۔
(۲) مولوی محمد علی صاحب ایم اے اڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان۔
(۳) میرزا محمود احمد (میرا بڑا لڑکا) اڈیٹر رسالہ تشحیذ الاذہان۔
(۴) سیّد امیر علی شاہ صاحب سب انسپکٹر جلال آباد۔
(۵) حکیم ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری مالک کارخانہ ہمدم صحت لاہور۔
(۶) شیخ عبد الرحیم صاحب نو مسلم (سابق جگت سنگھ)
(۷) چودھری فتح محمد صاحب طالب علم گورنمنٹ کالج لاہور۔
اب ہم اس جگہ اس بات کے بیان کرنے سے خاموش نہیں رہ سکتے کہ یہ قرآن شریف کہ جو باوا نانک صاحب کے گدی نشین گروؤں کے تبرکات میں نہایت عزت اور ادب کے ساتھ اب تک اس خاندان میں چلا آیا ہے جس کی زیارت کے لئے صدہا