نہایت ادب کے ساتھ بہت سے ریشمی غلافوں کے درمیان بند ہیں اور اُن کو کھولا نہیں جاتا جب تک کہ اُن کے درشن کرنے کا خواہشمند اُس گرو کو جس کے قبضہ میں وہ ہیں مبلغ ایک سو ایک روپیہ نقد نہ دے۔ اور اُس کو کھولنے سے پہلے وہ گرو ایک سو ایک دفعہ اشنان یعنی غسل کرتا ہے۔ تب وہ اپنے آپ کو اس قابل خیال کرتا ہے کہ اُس کو کھولے اور ہاتھ لگائے۔ ان تبرکات کے درشن کرنے کے واسطے اور اُن کے آگے سر جھکانے کے واسطے سکھ اور ہندو لوگ سیالکوٹ۔ راولپنڈی۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان۔ ڈیرہ غازیخان۔ کوہاٹ اور دیگر سرحدی علاقجات بلکہ کابل تک سے آتے ہیں۔ آج کل جس سکھ بزرگ کے قبضہ میں یہ تبرکات ہیں اس کا نام گروبشن سنگھ ہے۔ یہ صاحب گرورام داس کی اولاد میں سے ہیں جوکہ باوا نانک کے بعد چوتھے گرو سکھوں کے گزرے ہیں۔ فیروزپور گزٹیر مطبوعہ ۱۸۸۹ ؁ء میں جو حالات سرکار انگریزی کے کار پردازان نے اس خاندان کے متعلق لکھے ہیں اُن میں مندرج ہے کہ اس خاندان کے مورثِ اعلیٰ وہی گرو رام داس صاحب تھے جن کے نام نامی پر امرتسر کا مشہور سنہری مندر نامزؔ د ہے پہلے یہ تبرکات ضلع لاہور تحصیل چونیاں کے ایک گاؤں محمدی پور نام میں تھے جہاں سے اس خاندان کا بزرگ گروجیون مل نقل مکان کرکے موجودہ مقام میں آگیا اور یہاں اُس نے ایک گاؤں آباد کیا جس کانام اپنے بیٹے کے نام پر گروہرسہائے رکھا چنانچہ آج تک یہ گاؤں اسی نام سے مشہور ہے گرو جیون مل کے بعد اُس کا بیٹا گروہرسہائے گدی نشین ہوا اور اس کے بعد گرو اجیت سنگھ اور پھر گرو امیر سنگھ اور پھر گرو گلاب سنگھ اور پھر گرو فتح سنگھ (موجودہ گرو کا باپ) یکے بعد دیگرے جانشین ہوتے چلے آئے۔ اِن تبرکات قرآن شریف وغیرہ کے سبب اس خاندان کا اثر ہمیشہ سکھ قوم پر زور آور رہا ہے انہیں تبرکات کے سبب سے یہ خاندان ہمیشہ بڑی بڑی جاگیروں کا مالک رہا ہے۔ چنانچہ اب تک ۲۶ گاؤں ان کے قبضہ میں ہیں جو ضلع فیروزپورمیں ہیں اوران کے علاوہ ریاستہائے نابہ و پٹیالہ میں بھی