کوس سے سکھ لوگ آتے ہیں اور ہزارہا روپیہ بطور نذر چڑھاتے ہیں۔ یہ اس بات پر صاف دلیل ہے کہ باوا نانک صاحب اور نیز اُن کے گدّی نشین اور پیرو صدقِ دل سے قرآن شریف پر ایمان لاتے تھے اور اس کو درحقیقت خدا کا کلام سمجھ کر اُس کا ادب کرتے تھے اگر کوئی شخص تجاہل کے رُو سے اس کا انکار کرے تو اس سے ہمیں کچھ غرض نہیں لیکن بلاشبہ باوا صاحب اور اُن کے گدّی نشینوں کے اسلام پر یہ ایسا کھلا ثبوت ہے کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں۔
پھر جب ہم اس کے ساتھ اس ثبوت کو دیکھتے ہیں جو اس تبرک سے ہمیں ملتا ہے جو ڈیرہ نانک ضلع گورداسپور میں موجود ہے جس کا ہم نے اپنی کتاب ست بچن میں مفصل ذکر کیا ہے یعنی چولہ صاحب جس پر بہت سی قرآن شریف کی آیتوں کے ساتھ یہ کلمہ شہادت بھی لکھا ہوا ہے اشھد ان لا الٰہ الَّا اللّٰہ واشھد انّ محمّدًا عبدہ ورسولہ تو بلاشبہ ہمیں راستی کی پابندی سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ باوا نانک صاحب نہ صرف عام مسلمانوں کی طرح مسلمان تھے بلکہ اُن کو اسلام کےؔ اُن اولیاء اور بزرگوں میں سے شمار کرناچاہیئے جو اس ملک میں گذر چکے ہیں۔ اب بعد اس کے ہم ذیل میں چند ملفوظاتِ باوا نانک صاحب جو گرنتھ اور جنم ساکھیوں میں لکھے ہوئے ہیں ذیل میں درج کرتے ہیں اور اس بات کا انصاف ناظرین پر چھوڑتے ہیں کہ اگر ان تمام امور کو یکجائی نظر سے دیکھا جائے توکیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ باوا نانک صاحب کو مذہب کی رُو سے ہندوؤں سے کچھ بھی تعلق نہ تھا بلکہ وہ مرد خدا کامل مسلمانوں میں سے ایک مسلمان تھا۔ وہ آریہ قوم میں اس غرض سے پیدا ہوا کہ تا خدا سے الہام پاکر اسلام کی سچائی کا اقرار کرے اور پھر اپنی اِس گواہی سے تمام ہندوؤں کو ملزم کرکے خدا کے سامنے قیامت کے دن اُن پر نالش کرے۔ پس باوا نانک صاحب کا وجود تمام ہندوؤں پر خدا تعالیٰ کی ایک حجت ہے خاص کر سکھوں پر جو اُن کے پیرو کہلاتے ہیں۔ خدا نے