سے بیزار کرکے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جن کے سینوں میں و ہ اپنی محبت کی آگ رکھ دیتا ہے۔ اس کا کلام جابجا ثابت کرتا ہے کہ اُس نے ہندوؤں کے ویدوں میں بہت غور کی مگراُن سے کچھ تسلی نہیں پائی آخر ویدوں سے اُس کا دل بیزار ہوگیا اور اُس وقت کے خدا رسیدہ مسلمانوں سے اُس نے تعلق پیدا کیا اور ایک زمانہ دراز تک اُن کی صحبت میں رہا آخر ان کے رنگ سے رنگین ہوگیا۔ اب تک اُس کی یاد گار میں وہ چلّہ کشی کے مقام پائے جاتے ہیں جس جس جگہ اُس نے اولیاء اللہ کے قرب وجوار میں خدا کی راہ میں مجاہدات کئے چنانچہ اس نیت سے میں ایک مرتبہ ملتان پہنچ کر ایک بزرگ کی خانقاہ پر گیا تو ایک دیوار پر باوا نانک صاحب کے ہاتھ سے یا اللّٰہ لکھا ہوا دیکھا اور مجاوروں نے مجھے چلہ کشی کا مقام دکھایا اوروہ مسجد بھی دکھائی جس میں وہ نماز پڑھتے تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ زندہ خدا کا طالب تھا اور زندہ مذہب کو ڈھونڈتا تھا آخر خدا اُس پر ظاہر ہوا اور راہِ راست اُس کو دکھلا دیا۔ باوا صاحب کے تبرکات بھی جواب تک اُن کی اولاد یا جانشینوں کی اولاد کے ہاتھ میں موجود ہیں وہ تبرکات بھی بزبان حال بیان کررہے ہیں کہ باوا نانک صاحب اور جانشین اُن کے درحقیقت مسلمانؔ تھے اور حکمت الٰہیہ سے وہ مخفی رہے وہ تمام تبرکات باوا صاحب کے اسلام پر ایک عجیب شہادت ہے اور میں نے اِن شہادتوں کے فراہم کرنے میں بہت محنت کی آخر خدا کے فضل سے کافی شہادتیں مجھے مل گئیں۔ چنانچہ ذیل میں باوا صاحب کے تبرکات میں سے ایک عجیب شہادت پیش کرتا ہوں۔
بمقام گروہر سہائے واقع ضلع فیروزپور سکھوں کے ایک نہایت معزز خاندان کے قبضہ میں باوا نانک صاحب اور اُن کے بعد کے گدّی نشین گروؤں کے چند تبرکات چلے آتے ہیں جن میں ایک تسبیح (جس کو ہندو مالا کہتے ہیں) باوا صاحب موصوف کی اور ایک پوتھی اور ایک قرآن شریف اور چند دیگر اشیاء ہیں۔ یہ قرآن شریف اور دیگر تبرکات