حقوؔ ق میں انصاف کرتا ہے لیکن اس طرح منصف نہیں کہ کوئی بندہ شریک کی طرح اس سے کوئی حق طلب کرسکے کیونکہ بندہ خدا کی ملک ہے اور اُس کو اختیار ہے کہ اپنی مِلک کے ساتھ جس طرح چاہے معاملہ کرے جس کو چاہے بادشاہ بناوے اور جس کو چاہے فقیر بناوے اور جس کو چاہے چھوٹی عمر میں وفات دے اور جس کو چاہے لمبی عمر عطا کرے اور ہم بھی تو جب کسی مال کے مالک ہوتے ہیں تواُس کی نسبت پوری آزادی رکھتے ہیں۔ ہاں خدا رحیم ہے بلکہ ارحم الراحمین ہے وہ اپنے رحم کے تقاضا سے نہ کسی انصاف کی پابندی سے اپنی مخلوقات کی پرورش کرتاہے کیونکہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ مالک کا مفہوم منصف کے مفہوم سے بالکل ضد پڑا ہوا ہے جبکہ ہم اُس کے پیدا کردہ ہیں تو ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم اُس سے انصاف کا مطالبہ کریں۔ ہاں نہایت عاجزی سے اُس کے رحم کی ضرور درخواست کرتے ہیں اور اس بندہ کی نہایت بدذاتی ہے جو خدا سے اُس کے کاروبار کے متعلق جو اس بندہ کی نسبت خدا تعالیٰ کرتا ہے انصاف کا مطالبہ کرے جب کہ انسانی فطرت کا سب تارو پود خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور تمام قوےٰ روحانی جسمانی اُسی کی عطا کردہ ہیں اور اُسی کی توفیق اور تائید سے ہر ایک اچھاعمل ظہور میں آسکتا ہے تو اپنے اعمال پر بھروسہ کرکے اُس سے انصاف کا مطالبہ کرنا سخت بے ایمانی اورجہالت ہے اور ایسی تعلیم کو ہم ودّیا کی تعلیم نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ تعلیم سچے گیان سے بالکل محروم اور سراسر حماقت سے بھری ہوئی تعلیم ہے سو ہمیں خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں جو قرآن شریف ہے یہی سکھایا ہے کہ بندہ کے مقابل پر خدا کا نام منصف رکھنا نہ صرف گناہ بلکہ کفر صریح ہے ہاں جب وہ خود ایک وعدہ کرتا ہے تو اس وعدہ کا پورا کرنا اپنے پر ایک حق ٹھہرا لیتا ہے جیسا کہ وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔
۱
یعنی ہم جو ابتدا سے مومنوں کے لئے نصرت اور مدد کا وعدہ دے چکے ہیں اس لئے ہم اپنے