ربّ نظر آئیں گے۔ یہی بھید ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہی کہتے تھے کہ سبحان ربّی الاعلٰی۔ سبحان ربّی العظیم۔ یعنی میرا ربّ سب سے بڑا اور بزرگ ہے پس اگرچہ ربّ تو ایک ہے مگر تجلیاتِ عظیمہ اور ربوبیّتِ عالیہ کی وجہ سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ربّ سب سے اعلیٰ ہے۔
پھر اس جگہ ایک اور نکتہ ہے کہ چونکہ مدارج قرب اور تعلق حضرت احدیت کے مختلف ہیں اس لئے ایک شخص باوجود خدا کا مقرب ہونے کے جب ایسے شخص سے مقابلہ کرتا ہے جو قرب اور محبت کے مقام میں اس سے بہت بڑھ کر ہے تو آخر نتیجہ اُس کا یہ ہوتا ہے کہ یہ شخص جو ادنیٰ درجہ کا قرب الٰہی رکھتا ہے نہ صرف ہلاک ہوتا ہے بلکہ بے ایمان ہوکر مرتا ہے جیسا کہ موسیٰ کے مقابل پر بلعم باعور کاحال ہوا۔ پہلے تو وہ مکالمہ مخاطبہ الہٰیہ سے مشرف تھا اور اُس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور تمام ملک میں ولی کہلاتا تھا اور صاحب کرامات تھا ؔ لیکن جب خواہ نخواہ موسیٰ کے ساتھ مقابلہ کر بیٹھا اور اپنی قدر کو شناخت نہ کیا تب ولایت اور قرب کے مقام سے گرایا گیا اور خدا نے کتّے کے ساتھ اُس کو مثال دی۔ پس سوچنا چاہیئے کہ تکبر اور مشیخت کس قدر خوف کا مقام ہے اور اُس درگاہ میں بجز عاجزی کے اور کچھ منظور نہیں۔ چاہیئے کہ اگرکوئی شخص کسی دوسرے شخص کو دیکھے کہ وہ خدا سے تعلق محبت رکھتا ہے اور خدا اس کی مدد اور نصرت کرتا ہے تو گویہ کیسا ہی اپنے تئیں پارسا یاملہم سمجھتا ہے جلدی سے اُس کی توہین اورتکذیب کے لئے طیار نہ ہو۔ تا بلعم باعور کی طرح اُس کا انجام بد نہ ہو۔