وہ اعلیٰ درجہ کی تجلی سے مخصوص کئے جاتے ہیں دوسروں کو اس تجلی سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔ اگرچہ خدا ایک ہے اور واحد لاشریک ہے مگر پھر بھی مختلف تجلیات کے اعتبار سے ہر ایک کا جُدا جُدا ربّ ہے۔ یہ نہیں کہ ربّ بہت ہیں ربّ ایک ہی ہے جو سب کاربّ ہے اور کثرت کا قائل کافر ہے۔ مگر تعلقات کے مختلف مراتب کے لحاظ سے اور صفاتِ الہٰیّہ کے ظہور کی کمی بیشی کے لحاظ سے ہر ایک کا جدا جدا ربّ کہنا پڑتا ہے جیسا کہ بہت سے آئینے اگر ایک چہرہ کے مقابل پر رکھے جائیں جن میں سے بعض آئینے اس قدر چھوٹے ہوں کہ جیسے آرسی کا شیشہ ہوتا ہے اور بعض اِس سے بھی چھوٹے اور بعض اس قدر چھوٹے کہ گویا آرسی کے آئینہ سے پچاسواں حصہ ہیں اور بعض آرسی کے آئینہ سے کسی قدر بڑے ہیں اور بعض اس قدر بڑے ہیں کہ اُن میں پورا چہرہ نظر آسکتا ہے پس اس میں شک نہیں کہ اگر چہ چہرہ ایک ہی ہے لیکن جس قدر آئینہ چھوٹا ہوگا چہرہؔ بھی اس میں چھوٹا دکھائی دے گا۔ یہاں تک کہ بعض نہایت چھوٹے آئینوں میں ایک نقطہ کی طرح چہرہ نظر آئے گا اور ہرگز پورا چہرہ نظر نہیں آئے گا جب تک پورا آئینہ نہ ہو پس اس میں کچھ شک نہیں کہ چہرہ تو ایک ہے اور یہ بات واقعی صحیح ہے لیکن جو بظاہر مختلف آئینوں میں نظر آتا ہے اُس کی نسبت یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ وہ باعتبار اُس نمائش کے ایک چہرہ نہیں ہے بلکہ کئی چہرے ہیں اِسی طرح ربوبیّت الہٰیّہ ہر ایک کے لئے ایک درجہ پر ظاہر نہیں ہوتی۔ انسانی نفس تزکیہ کے بعد ایک آئینہ کا حکم رکھتا ہے جس میں ربوبیّت الہٰیّہ کا چہرہ منعکس ہوتا ہے مگر گو کسی کے لئے تزکیہ نفس حاصل ہوگیا ہو مگر فطرت کے لحاظ سے تمام نفوس انسانیہ برابر نہیں ہیں کسی کادائرہ استعداد بڑا ہے اور کسی کاچھوٹا۔ جس طرح اجرام سماویہ چھوٹے بڑے ہیں۔ پس جو چھوٹی استعداد کا نفس ہے گو اس کا تزکیہ بھی ہوگیا مگر چونکہ استعداد کی رُو سے اس نفس کا ظرف چھوٹا ہے اس لئے ربوبیّت الہٰیّہاور تجلّیات ربّانیہ کا عکس بھی اس میں چھوٹا ہوگا۔ پس اس لحاظ سے اگرچہ ربّ ایک ہے لیکن ظروف نفسانیہ میں منعکس ہونے کے وقت بہت سے