اُن پر نظر نہ پڑسکے اور تا وہ خدا کی غیرت کی چادر کے نیچے پوشیدہ رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل انسان پر جو سراسر نور مجسم ہیں اندھے پادریوں اور نادان فلسفیوں اور جاہل آریوں نے اِس قدر اعتراض کئے ہیں کہ اگر وہ سب اکٹھے کئے جائیں تو تین ہزار سے بھی کچھ زیادہ ہیں پھر کسی دوسرے کو کب امید ہے کہ مخالفوں کے اعتراض سے بچ سکے اگر خدا چاہتا تو ایسا ظہور میں نہ آتا مگر خدا نے یہی چاہا کہ اُس کے خاص بندے دنیا کے فرزندوں کے ہاتھ سے دُکھ دئیے جائیں اور ستائے جائیں اور اُن کے حق میں طرح طرح کی باتیں کہی جائیں۔ اِسی طرح انجیل سے ثابت ہے کہ بدقسمت یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو بھی کافر اور مکار اور گمراہ اور گمراہ کرنے والا اور فریبی ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ ایک چور کو اُن پر ترجیح دی۔ ایسا ہی فرعون نے بھی حضرت موسیٰ کو کافر کرکے پکارا جیسا کہ قرآن شریف میں فرعون کا یہ کلمہ درج ہے 33 ۱؂ یعنی اے مو سیٰ جو کام تُو نے کیا وہ کیا اور تُو تو کافروں میںؔ سے ہے۔ پس یہ کفر عجیب کفر ہے کہ ابتدا سے تمام رسول اور نبی وارثت کے طور پر نادانوں کی زبان سے اس کو لیتے آئے یہاں تک کہ آخری حصہ اُس کا ہمیں بھی مل گیا۔ پس ہمارے لئے یہ فخر کی جگہ ہے کہ ہم اس حصہ سے کہ جو نبیوں اور رسولوں اور صدیقوں کو قدیم سے ملتا آیا ہے محروم نہ رہے بلکہ یہ کہنا بیجانہ ہوگا کہ کئی گذشتہ نبیوں کی نسبت یہ حصہ ہمیں زیادہ ملا ہے۔ اور یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اولیاء اللہ کے بھی کئی درجات ہوتے ہیں اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ 3 3 ۲؂ بعض بعض پر فضیلت رکھتے ہیں بلکہ بعض اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں کہ ادنیٰ درجہ کے صلحاء اُن کو شناخت نہیں کر سکتے اور اُن کے مقام عالی سے منکر رہتے ہیں اور یہ اُن کے لئے ابتلا اور ٹھوکر کا باعث ہو جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ربوبیت کی تجلیات الگ الگ ہوتی ہیں جو اخص العباد ہوتے ہیں