قسم کا قانون قدرت ہے جو ہمارے زمانہ میں آکرمعطّل ہوگیا۔ پھر یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ خدا صرف آریہ ورت کا ہی خدا نہیں بلکہ تمام دنیا کا خدا ہے پھر یہ کس قسم کا قانون قدرت ہے کہ وہ بیشمار مدتوں سے آریہ ورت سے ہی تعلق رکھتا ہے کہ انہیں کے مُلک میں اپنی کتاب نازل کرتا ہے کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ آریہ ورت کو خدا سے کونسی خصوصیت ہے کہ ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کو انہیں کا ملک پسند آگیا۔ اور پھر کیا وجہ ہے کہ اس کام کے لئے ہمیشہ آریہ ورت کے چار رشی ہی منتخب کئے جاتے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ پرمیشر اپنے عاجز بندوں کو اُن کی زبان میں ہی اپنے احکام نہیں سمجھاتا اور ایک اجنبی زبان جس کو بندے نہ سمجھ سکیں نہ بول سکیں اُن کے سامنے پیش کرتاہے کہ اُس کی ہدایتوں پر چلو ؟ اگر یہی بات ہے کہ پرمیشر اُن کی زبان سے نفرت کرتا ہے تو پھر وہ دُعائیں جو اپنی اپنی زبان میں لوگ کرتے ہیں وہ کیونکر سن لیتا ہے ؟ غرض آریہ مذہب خدا کے قانون قدرت کے بالکل مخالف ہے اور ہم بار بار بیان کرچکے ہیں کہ وید کی رُو سے پرمیشر کا وجود ہی ثابت نہیں ہوتا کیونکہ نہ پرمیشر وید کی رُو سے کاملؔ طور پر خالق ہے او ر نہ کوئی تازہ نشان دکھا سکتا ہے تا اُس کی ہستی کا اُس سے پتہ لگے اور نہ اُس کی طرف توجہ کرنے والا یہ امر محسوس کرتاہے کہ پرمیشر نے اپنی کلام سے اُس کو اپنے وجود کی خبردی ہے کہ میں موجود ہوں۔ عجیب بات یہ ہے کہ وید کی رُو سے مجرموں کو سزا دینے کے لئے اور نیز ایسی نیک جزا دینے کے لئے جس سے ایک بیل اپنی مشقت بھگت کر انسان بن سکتا ہے یہی دنیا جزا و سزا کا گھر ہے مگر پھر بھی ہر ایک رُوح مرنے کے بعد دنیا سے اٹھائی جاتی ہے اور کسی سزا جزا کا ثمرہ اپنی اسی دُنیا میں دست بدست دکھایا نہیں جاتا اور چاہئے تھا کہ جس وقت ایک بیل اپنی بد اعمالی کی سزا بھگت لے تو فِی الفَور اُس بیل کو انسان بنایا جائے تا لوگوں کو بھی معلوم ہوکہ تناسخ برحق ہے جب کہ یہی دنیا ۔۔۔ سزا جزا دینے کا گھر ہے تو ناحق رُوح کو دُنیا سے اٹھا لینا اور پھر واپس لانا کس قدر فضول حرکت ہے۔