بآسانی باہر کی طرف نکل آتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی ایک حیوانی شعور ہے۔ ایسا ہی لاجونتی کی بوٹی میں بھی حیوانی شعور پایا جاتا ہے کہ وہ ہاتھ لگانے سے فی الفور پژمُردہ ہو جاتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا وجود بھی حیوان اور نبات میں مشترک ہے اور بعض درختوں کے پھل جب پختہ ہو تے اور کھانے کے قابل ہو جاتے ہیں تو وہ سب کے سب پرندے بن جاتے ہیں اور دوسرے پرندوں کی طرح پرواز کرتے ہیں جیسا کہ گولر کا پھل بھی اسی طرح کا ہے اور بعض سیّاح صاحب تجربہ بیان کرتے ہیں کہ افریقہ کے بعض جنگلوں میں بہت سے ایسے درخت پائے گئے ہیں کہ اُن کے پھلے بھی گولر کی پھل کی طرح آخر کار چھوٹے چھوٹے پرندے ہوکر پرواز کرنے لگتے ہیں۔ بعض پتے اس قسم کے ہیں کہ عین سبز ہونے کی حالت میں اُن میں کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ کارخانہ قدرتِ الٰہی کی کون حدبست کرسکتا ہے یہ تمام جہالتیں ہیں کہ اس کے قدرت کے کاموں کو محدود کیاجاوے اس وسیع کارخانہء قدرت پر ایک عمیق نظر ڈالنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ تمام مدار حیوانی پیدائش کا یہ قرار دینا کہ رُوحیں شبنم کی ؔ طرح آسمان سے گرتی ہیں ایسا خیال صرف جہالت ہی نہیں بلکہ جنون اور دیوانگی ہے۔ پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ ان تمام کیڑوں کی پیدائش موسموں اور وقتوں سے وابستہ ہے مثلاً برسات میں اس قدر کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں کہ تمام سال میں اس قدر پیدا نہیں ہوتے پس کیا ہم گمان کرسکتے ہیں کہ برسات میں لوگ بڑے بڑے گناہ کرتے ہیں اس لئے اس موسم میں کیڑوں کی ادنیٰ جونیں اُنہیں نصیب ہوتی ہیں ؟ شرم۔ ماسوا اِس کے آریہ مذہب کا یہ عقیدہ قانونِ قدرت سے کس قدر بَرخلاف ہے کہ خدا تعالیٰ اس زمانہ میں لوگوں کی دُعائیں سنتا تو ہے مگر بولنے پر قادر نہیں اس لئے جواب نہیں دے سکتا۔ اور صرف اُس زمانہ تک وہ بولتا تھا جبکہ وید کا زمانہ تھا پھر جبکہ وہ بولتا نہیں توکیونکر معلوم ہوکہ وہ سنتا بھی ہے بلکہ کیونکر معلوم ہو کہ وہ زندہ ہے پس یہ کس