حق کے طالبوں کے لئے ایک ضروری
نصیحت
چونکہ دُنیا ایک ایسی دھوکہ دینے والی جگہ ہے کہ اس میں ہر ایک اچھی چیز کے مقابل پر بُری چیز بھی موجود ہے بلکہ بعض اوقات نادانوں کی نظر میں بُری چیز ایسی اچھی دکھائی دیتی ہے کہ گویا وہی عمدہ اور قابل تعریف ہے۔ مثلاً ہیرا جس کو خدا اپنی قدرت اور حکمت سے زمین میں سے پیدا کردیتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ کوئلہ سے پیدا ہوتا ہے۔ بہرحال کچھ ہو لیکن وہ ایسی قیمتی چیز ہے کہ اگر وہ اپنے پور ے وزن اور پورے لوازم کے ساتھ پیدا ہو جائے تو کئی لاکھ روپیہ بلکہ اس سے بڑھ کر اُس کی قیمت ہوتی ہے اور بجز خزائن ملوک کے کسی کو میسر نہیں آتا پھر عجیب تر بات یہ ہے کہ بعض دوسرے پتھر بھی ایسے ہیں کہ ؔ بڑے دانا جوہری بھی دھوکہ کھا کر اُن کو اعلیٰ درجہ کا ہیرا ہی خیال کرنے لگتے ہیں بلکہ اپنی بیوقوفی سے خرید کر ہزارہا روپیہ کا خسارہ اٹھاتے ہیں۔ میرے یہ دیکھنے کی بات ہے کہ قادیان میں ایک کابلی شخص دو پتھر چمکنے والے مدوّر شکل کے لایا جو بہت خوبصورت اور چمکدار تھے اور بیان کیا کہ یہ دو ہیرے ہیں اور اُن میں سے شعلہ کی طرح چمک نکلتی تھی۔ میرے ایک دوست نے جو مدراس کے رہنے والے تھے ایک ٹکڑہ اس ہیرے کا خریدنا چاہا اور پانسو۵۰۰ روپیہ قیمت ٹھہری۔ میں نے اُن کو منع کیا کہ اوّل یہ ٹکڑہ کسی جوہری کو دکھلا لینا چاہئے۔ پھر جوہری کے پاس مدراس میں وہ ٹکڑہ بھیجا گیا آخر شاید ایک ہفتہ یادس دن کے بعد جواب آیا کہ اس ٹکڑہ کی قیمت دو یا تین پیسے ہیں اور معلوم ہوا کہ یہ اور ہی پتھر ہے جو ہیرے سے مشابہ ہوتا ہے۔
پس اسی طرح سمجھنا چاہئے کہ بعض نااہل آدمی اپنی جھوٹی چمک دکھلاکر ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ گویا وہ اولیا ء الرحمن میں سے ہیں اور درحقیقت وہ اولیاء الشیطان میں سے ہوتے ہیں