کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہیں بلکہ مختلف قسم کے مادوں سے خواہ وہ نباتی ہیں خواہ جمادی یا حیوانی باذن باری تعالیٰ روحیں پیدا ہو جاتی ہیں شبنم کا اُن میں کچھ دخل نہیں جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں۔ پس یہ کس قسم کا فلسفہ ہے کہ رُوحوں کی پیدائش کا صرف شبنم پر مدار رکھا گیا ہے یعنی یہ کہ رُوح شبنم کی طرح آسمان سے کسی گھاس پات پر گرتی ہے۔ اگر کارخانہ قدرت پر نظر ڈالی جائے تو جانداروں کی پیدائش کے بارے میں انسانی عقل ہر ایک قدم میں اپنے عجز کا اقرار کرتی ہے۔ ایک قسم کے وہ جاندار ہیں جو دریاؤں اور سمندروں میں عجیب طور پر پیدا ہوتے اور پرورش پاتے ہیں اور ایک قسم کے وہ جاندار ہیں جو زمین کے نیچے پیدا ہوتے ہیں۔ اور بعض جاندار یعنی کیڑے پھلوں میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہماری اِس کتاب کے تحریر کے وقت جو آم کے پھل لانے کا وقت ہے اور موسم بہار ہے آم کے پھول میں ایک کیڑا پیدا ہو گیا ہے جس کو اس ملک میں تیلا کہتے ہیں اور یہ آم کے پھول سے ہی پیدا ہو ا ہے اور یقین تھا کہ آم کی فصل کو تباہ کردیتا مگر اب بارش کے ہونے سے کسی قدر کم ہو گیا ہے۔ ایسا ہی کپاس کے درختوں کو ایک قسم کے کیڑے نے نقصان پہنچایا ہے کہتے ہیں کہ کپاس کا کیڑا خارجی تاثیر سے پیدا نہیں ؔ ہوتا بلکہ ایک انگریز محقق نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پودے کی جڑ میں مٹی میں سے پیدا ہوتا ہے۔ ایسا ہی اِس موسم بہار میں میوہ بیدانہ پر ہمیشہ ایک کیڑا دیکھا گیا ہے جو بہت خوبصورت اور بادامی رنگ ہوتا ہے۔ اور موتی کا کیڑا بھی ایک عجیب قسم کا ہوتا ہے اور بہت نرم ہوتا ہے اور لوگ اس کو کھاتے بھی ہیں۔ خود پانی میں بھی کیڑے ہوتے ہیں اور ایک قسم کے درخت ہیں کہ ایک صفت اُن میں نباتی اور ایک حیوانی ہے جیسا کہ پہلے حکماء نے بھی بانس کے درخت میں یہ صفت ثابت کی ہے کہ اگر وہ کسی ایسی جگہ پر لگایا جائے جس کے اُوپر چھت ہو تو ہنوز وہ درخت چھت تک نہیں پہنچتا اور ایک دو ہاتھ باقی رہتے ہیں کہ ایسی طرف اپنا رُخ کرلیتا ہے جس طرف سے وہ