اور تا اسلام ہمیشہ مخالفوں پر غالب رہے۔ نادان آدمی جو دراصل دشمن دین ہے اس بات کو نہیں چاہتا کہ اسلام میں سلسلہ مکالمات مخاطبات الٰہیہ کا جاری رہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اسلام بھی اورمردہ مذہبوں کی طرح ایک مردہ مذہب ہو جائے مگر خدا نہیں چاہتا۔ نبوت اور رسالت کا لفظ خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں میری نسبت صدہا مرتبہ استعمال کیا ہے مگر اس لفظ سے صرف وہ مکالمات مخاطبات الٰہیہ مراد ہیں جو بکثرت ہیں اور غیب پر مشتمل ہیں اِس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کرسکتا ہے لِکُلٍّ اَنْ یَّصْطَلِحَ سوخدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اُس نے نبوت رکھا ہے یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہیں اور *** ہے اُس شخص پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے علیحدہ ہوکر نبوت کادعوٰی کرے مگر یہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہے نہ کوئی نئی نبوت اور اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ اسلام کی حقانیت دنیا پر ظاہر کی جائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی دکھلائی جائے۔ میں ؔ بار بار تمام دنیا پر یہ بات ظاہر کرتاہوں کہ دنیا میں اسلام ہی صرف ایسا مذہب ہے جس کو زندہ مذہب کہنا چاہیئے باقی تمام مذاہب قصوں کی پرستش میں گرفتار ہیں اور آریہ مذہب والے یوں تو ہر بات میں قانون قدرت کاحوالہ دیتے ہیں مگر اُن کے یہ دکھانے کے دانت ہیں کھانے کے دانت نہیں ہیں۔ اور صرف یہی نہیں کہ اُن کا مذہب آسمانی نشانوں سے بے نصیب ہے بلکہ اُن کا مذہب ہر ایک بات میں خدا کے قانون قدرت کے مخالف بھی ہے۔ مثلاً خدا کے قانون قدرت سے جانداروں کی پیدائش کی نسبت صریح یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر گز اس طرح پیدا نہیں ہوتے جیسا کہ آریوں کا خیال ہے یعنی یہ کہ اُن کی رُوحیں شبنم