میں اکیلا اپنے خدا کی جناب میں کسی امر کے لئے رجوع کروں تو خدا میری ہی تائید کرے گا مگر نہ اس لئے کہ سب سے میں ہی بہتر ہوں بلکہ اس لئے کہ میں اُس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اُس پر ختم ہیں اور اُس کی شریعت خاتم الشرائع ہے مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اُس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اُس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے یعنی اُس کا ظل ہے اور اُسی کے ذریعہ سے ہے اور اُسی کا مظہر ہے*اور اُسی سے فیضیاب ہے۔ خدا اُس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریف کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے اورمحمدی شریعت کے برخلاف چلتاؔ ہے اور اپنی شریعت چلاناچاہتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا بلکہ آپ کچھ بننا چاہتا ہے۔ مگر خدا اُس سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اُس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو درحقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور اس کے فیض کا اپنے تئیں محتاج جانتا ہے پس ایسا شخص خدا تعالیٰ کی جناب میں پیارا ہو جاتا ہے اور خدا کا پیار یہ ہے کہ اُس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اُس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور اُس کی حمایت میں اپنے نشان ظاہر کرتا ہے اور جب اُس کی پیروی کمال کو پہنچتی ہے تو ایک ظلّی نبوت اُس کو عطا کرتا ہے جو نبوت محمدیہ کا ظل ہے یہ اس لئے کہ تا اسلام ایسے لوگوں کے وجود سے تازہ رہے
* ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے اور اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو بلاشبہ وہ بے دین اور مردود ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ابتدا سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات متعدیہ کے اظہار و اثبات کے لئے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور مخاطبات الٰہیہ بخشے کہ جو اُس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت کا رنگ پیدا کردے سو اس طور سے خدا نے میرا نام نبی رکھا یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینۂ نفس میں منعکس ہوگئی اور ظلّی طور پر نہ اصلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا تا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔ منہ