وہ یہ ہے کہ نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ مع اپنے بھائیوں کے سخت مشکلات میں پھنس گئے تھے منجملہ اُن کے یہ کہ وہ ولیعہد کے ماتحت رعایا کی طرح قرار دئیے گئے تھے اور انہوں نے بہت کچھ کوشش کی مگر ناکام رہے اور صرف آخری کوشش یہ باقی رہی تھی کہ وہ نواب گورنر جنرل بہادر بالقابہ سے اپنی دادرسی چاہیں اور اس میں بھی کچھ امید نہ تھی کیونکہ اُن کے برخلاف قطعی طورپر حکام ماتحت نے فیصلہ کردیا تھا۔ اس طوفان غم و ہم میں جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے انہوں نے صرف مجھ سے دعا کی ہی درخواست نہ کی بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر خدا تعالیٰ اُن پر رحم کرے اور اس عذاب سے نجاتؔ دے تو وہ تین ہزار نقد روپیہ بعد کامیابی کے بلا توقف لنگر خانہ کی مدد کے لئے ادا کریں گے۔ چنانچہ بہت سی دعاؤں کے بعدمجھے یہ الہام ہوا کہ اے سیف اپنا رُخ اِس طرف پھیر لے۔ تب میں نے نواب محمد علی خان صاحب کو اس وحی الٰہی سے اطلاع دی۔ بعد اس کے خداتعالیٰ نے اُن پر رحم کیا اور صاحب بہادر وائسرائے کی عدالت سے اُن کے مطلب اور مقصود اور مراد کے موافق حکم نافذ ہوگیا۔ تب انہوں نے بلاتوقف تین ہزار روپیہ کے نوٹ جو نذر مقرر ہوچکی تھی مجھے دے دئیے اور یہ ایک بڑا نشان تھا جو ظہور میں آیا۔
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ یہ خدا کے نشان ہیں جو بارش کی طرح برس رہے ہیں او ر ایسا کوئی مہینہ کم گذرتا ہے جس میں کوئی آسمانی نشان ظاہر نہ ہو لیکن یہ اس لئے نہیں کہ میری رُوح میں تمام رُوحوں سے زیادہ نیکی اور پاکیزگی ہے بلکہ اس لئے کہ خدا نے اس زمانہ میں ارادہ کیا ہے کہ اسلام جس نے دشمنوں کے ہاتھ سے بہت صدمات اٹھائے ہیں وہ اب سرِنَو تازہ کیا جائے اور خدا کے نزدیک جو اُس کی عزّت ہے وہ آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ظاہر کی جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اسلام ایسے بدیہی طور پر سچا ہے کہ اگر تمام کفار رُوئے زمین دعا کرنے کے لئے ایک طرف کھڑے ہوں اور ایک طرف صرف