اورؔ نہ جودو عطا کے طور پر کسی کو وہ کچھ دے سکتا ہے اور اگر وہ ایسا کرے تواس سے بے انصافی لازم آتی ہے لہٰذا تناسخ کے ماننے والے کسی طرح کہہ نہیں سکتے کہ پرمیشر مخلوقات کا مالک ہے۔ یہ تو ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ مالک کی نسبت انصاف کی پابندی کی شرط لگانا بالکل بیجاہے ہاں ہم مالک کی صفات حسنہ میں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ رحیم ہے وہ جواد ہے وہ فیاض ہے وہ گنہ بخشنے والا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے زرخرید غلاموں اور گھوڑوں اور گائیوں کی نسبت منصف مزاج ہے کیونکہ انصاف کا لفظ وہاں بولا جاتا ہے جبکہ دونوں طرف ایک ہی قسم کی آزادی حاصل ہو۔ مثلاً ہم مجازی سلاطین کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ وہ منصف ہیں اور رعایا کے ساتھ انصاف کا سلوک کرتے ہیں اور جب تک رعایا اُن کی اطاعت کرے اُن پر بھی انصاف کا قانون یہ واجب کرتا ہے کہ وہ بھی رعایا کی اطاعت اور خراج گذاری کے عوض میں اُن کے مال و جان کی پوری نگہبانی کریں اور ضرورتوں کے وقت اپنے مال میں سے اُن کی مدد کریں۔ پس ایک پہلو سے سلاطین رعایا پرحکم چلاتے ہیں اور دوسرے پہلو سے رعیت سلاطین پر حکم چلاتی ہے۔ اور جب تک یہ دونوں پہلو اعتدال سے چلتے ہیں تب تک اس ملک میں امن رہتا ہے اورجب کوئی بے اعتدالی رعایاکی طرف سے یا بادشاہوں کی طرف سے ظہور میں آتی ہے تبھی ملک میں سے امن اُٹھ جاتا ہے۔ اِس سے ظاہر ہے کہ ہم بادشاہوں کو حقیقی طور پر مالک نہیں کہہ سکتے کیونکہ اُن کو رعایا کے ساتھ اور رعایا کو اُن کے ساتھ انصاف کا پابند رہنا پڑتا ہے مگر ہم خدا کو اس کی مالکیت کے لحاظ سے رحیم تو کہہ سکتے ہیں مگر منصف نہیں کہہ سکتے۔ کوئی شخص مملوک ہوکر مالک سے انصاف کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ ہاں تضرّع اور انکسار سے رحم کی درخواست کرسکتا ہے اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے تمام قرآن شریف میں اپنا نام منصف نہیں رکھا کیونکہ انصاف دو طرفہ برابری اور مساوات کو چاہتا ہے۔ ہاں اِس طرح پر خدا تعالیٰ منصف ہے کہ بندوں کے باہم