اُس کی زندگی میں ہی ۴؍ اگست ۱۹۰۸ ء تک ہلاک ہو جاؤں گا۔ اور یہ اُس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجّال اور کافر اور کذّاب قرار دیتا ہے۔ پہلے اُس نے بیعت کی اور برابر بیس۲۰ برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا پھر ایک نصیحت کی وجہ سے جو میں نے محض للہ اُ س کو کی تھی مرتد ہوگیا۔ نصیحت یہ تھی کہ اُس نے یہ مذہب اختیار کیا تھا کہ بغیر قبول اسلام اور پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نجات ہوسکتی ہے۔ گو کوئی شخص آنحضرت صلیؔ اللہ علیہ وسلم کے وجود کی خبر بھی رکھتا ہو۔ چونکہ یہ دعویٰ باطل تھا اور عقیدہ جمہور کے بھی برخلاف اِس لئے میں نے منع کیا مگر وہ باز نہ آیا آخر میں نے اُسے اپنی جماعت سے خارج کردیا۔ تب اُس نے یہ پیشگوئی کی کہ میں اُس کی زندگی میں ہی ۴؍ اگست ۱۹۰۸ ء تک اُس کے سامنے ہلاک ہوجاؤں گا۔ مگر خدا نے اُس کی پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اُس کو ہلاک کرے گا او ر میں اُس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اُس کی مدد کرے گا۔
یہ تو بطور نمونہ وہ نشان لکھے گئے ہیں جو دشمنوں کے متعلق تھے لیکن میں مناسب دیکھتا ہوں کہ کچھ نمونہ کے طور پر وہ نشان بھی لکھے جائیں کہ جو دوستوں کے متعلق ہیں اوروہ یہ ہیں۔
ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ میرے ایک مخلص دوست ہیں جن کا نام ہے حافظ مولوی حکیم نور الدین اُن کا ایک بیٹا تھا وہ فوت ہوگیا۔ تب ایک شریر دشمن نے اپنے ایک اشتہار کے ذریعہ سے اس لڑکے کی موت پر بڑی خوشی ظاہر کی اور مولوی صاحب ممدوح کا نام ابتر رکھا۔ میرا دل اس ایذا سے سخت بیقرار ہوگیامیں نے بہت تضرع سے جناب الٰہی میں مولوی صاحب موصوف کے لئے دُعا کی تب مجھے الہام ہوا کہ ایک لڑکا پیدا ہوگا اور