غلام دستگیر تھا اور مولوی کہلاتا تھا اُس نے مجھے کاذب ٹھہراکر دُعا کے ذریعہ سے میری ہلاکت چاہی اورجھوٹے پرخدا کا عذاب مانگا اور اس بارہ میں ایک رسالہ بھی لکھا مگر اس رسالہ کو ابھی شائع کرنا نہ پایا تھا کہ وہ اپنی اُسی بددُعا کے اثر سے ہلاک ہوگیا اور اُس کا تمام کارخانہ بگڑ گیا۔
ایساہی مسلمانوں میں سے ایک اور شخص اٹھا جس کا نام چراغ دین تھا اور جموں کا رہنے والا تھا اور اُس نے مجھے دجّال ٹھہرایا اور میری ہلاکت کی خبردی۔ تب خداؔ نے اپنی وحی سے مجھ مطلع کیاکہ وہ طاعون سے ہلاک کیا جائے گا اور ایسا ہوا کہ ابھی اُس نے اپنے مباہلہ کامضمون لکھنے کے لئے کاتب کو دیا تھا کہ اُسی رات طاعون میں مبتلا ہوکر اس جہان سے گذر گیا۔
ایسا ہی ایک شخص فقیر مرزانام جو اپنے تئیں اولیاء اللہ میں سے سمجھتا تھا اور اُس کے بہت مرید تھے میرے مقابل پر کھڑا ہوا اور دعویٰ کیاکہ خدا نے مجھے عرش سے خبر دی ہے کہ آئندہ رمضان تک یہ شخص یعنی یہ عاجز طاعون سے ہلاک ہو جائے گا۔ پس جب رمضان کا مہینہ آیا تو خود طاعون سے ہلاک ہوگیا۔
اسی طرح ایک نہایت کینہ ور اور گندہ زبان شخص سعد اللہ نام لدھیانہ کا رہنے والا میری ایذا کے لئے کمر بستہ ہوا اور کئی کتابیں نثر اور نظم میں گالیوں سے بھری ہوئی تالیف کرکے اور چھپواکر میری توہین اور تکذیب کی غرض سے شائع کیں اور پھر اسی پر اکتفا نہ کرکے آخر کار مباہلہ کیا اور ہم دونوں فریق کو یعنی مجھے اور اپنے تئیں خدا کے سامنے پیش کرکے جھوٹے کی موت خدا سے چاہی آخر تھوڑے دن بعد ہی طاعون سے ہلاک ہوا۔
ایسا ہی کئی اور دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہوکر ہلاک ہوئے اور اُن کا نام و نشان نہ رہا۔ ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبد الحکیم خان ہے اوروہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں